سوہاوہ میں جعلی کتب فروخت کرنے پر مشہور دوکاندار کے خلاف مقدمہ درج

سوہاوہ میں نجی تعلیمی ادارے کی جعلی کتب فروخت کرنے پر مشہور دوکاندار کے خلاف مقدمہ درج کرادیاگیا، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے اسسٹنٹ منیجر کی شکایت پر تھانہ سوہاوہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سوہاوہ میں مشہور دکان پاکستان بک سنٹر کی طرف سے نجی تعلیمی ادارے ایجوکیٹر سکول کی جعلی کتابیں فروخت کر کے بھاری منافع کمانے کے ساتھ ساتھ والدین کو چونا لگایا جا رہا تھا۔ کاپی رائیٹ ایکٹ کے تحت آکسفورڈ پبلشرز نے جعلی کتابیں چھاپنے اور فروخت کرنے پر مقدمہ درج کروا دیا۔

ذرائع کے مطابق جعلی کتب کی فروخت تاحال دھڑلے سے جاری ہے۔ سوہاوہ میں گزشتہ چار سے پانچ سال سے جعلی کتابیں فروخت کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجوکیٹر ہیڈ آفس سے گزشتہ چار سال میں ایک کتاب نہیں منگوائی گئی لیکن یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا سکول انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر جعل سازی کا اتنا بڑا کام ہو سکتا ہے ؟ اگر سکول انتظامیہ کو علم تھا تو انہوں نے والدین کو متعلقہ بک شاپ سے کتب خریدنے سے کیوں منع نہیں کیا جبکہ موجودہ تعلیمی سال کے لیے بھی اسی دوکاندار کو کتب فروخت کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔

شہری حلقوں نے کہا کہ والدین کتب خریدتے وقت اصلی کتابوں کا مطالبہ کریں اور دوکاندار سے کمپیوٹرائزڈ / پکا بل طلب کریں جس پر دوکاندار کا سیلز ٹیکس نمبر موجود ہو اور اگر وہ پھر بھی جعلی کتب تھما دے تو اس بل کے ساتھ متعلقہ اداروں کو شکایت درج کروائیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button