جہلم پریس کلب کے صدر اور چیئرمین کا صحافی تحفظ بل کی منظوری پر حکومت سے اظہار تشکر

جہلم: صدر جہلم پریس کلب مہر محمد الیاس اور چیئرمین چوہدری عابد محمود نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے سینیٹ سے منظور ہونے والے "جرنلسٹ پروٹیکشن بل” پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون سازی صحافی برادری کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اب صحافیوں کو فرائض کی ادائیگی کے دوران دھمکانے، ہراساں کرنے یا تشدد کا نشانہ بنانے کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دے دیا گیا ہے، جو آزادی اظہار رائے اور صحافت کے تحفظ کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
جرنلسٹ پروٹیکشن ترمیمی بل سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت کسی بھی صحافی یا اس کے اہل خانہ پر دورانِ فرائض تشدد یا دباؤ ڈالنے کی صورت میں 7 سال تک قید اور 3 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ بل میں یہ بھی شامل ہے کہ صحافی اپنی معلومات کے ذرائع ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔
بل کے متن کے مطابق صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت وفاقی حکومت خصوصی عدالتیں قائم کرے گی تاکہ صحافیوں سے متعلق جرائم کی فوری سماعت کی جا سکے۔ عدالتوں کا قیام اسلام آباد اور صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی مشاورت سے عمل میں لایا جائے گا۔
علاوہ ازیں صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن بھی قائم کیا جائے گا جس کا چیئرمین ہائی کورٹ کا جج یا اس کے مساوی اہلیت رکھنے والا شخص ہوگا، جسے وفاقی حکومت مقرر کرے گی۔ کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی مدتِ ملازمت تین سال ہوگی، جس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔
کمیشن صحافیوں، ان کے ساتھیوں، اہل خانہ، جائیداد اور صحافتی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ کمیشن کو اختیار ہوگا کہ وہ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دے، تاہم خفیہ ایجنسیوں کے کاموں کی تحقیقات کا اختیار کمیشن کے پاس نہیں ہوگا، البتہ کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شکایت متعلقہ اتھارٹی کو بھیجی جائے گی۔
صدر اور چیئرمین پریس کلب جہلم نے اس قانون کو صحافیوں کی قربانیوں کا اعتراف اور ان کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔



