جہلم کے قبرستانوں میں ملنگوں اور نشئیوں کے ڈیرے، شہری خوفزدہ

جہلم شہر اور گردونواح کے قبرستانوں میں ملنگوں اور نشے کے عادی افراد کے ڈیرے بن گئے ہیں، جس کے باعث مقامی شہری اور عبادت گزار قبرستانوں میں جانے سے خوفزدہ ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہر اور قریبی علاقوں کے مختلف قبرستانوں میں نشے کے عادی افراد بھنگ، چرس اور شراب کا کھلے عام استعمال کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر جرائم پیشہ عناصر بھی بلا خوف و خطر آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔

خاص طور پر رات کے اوقات اور بعض گوشوں میں نوجوان اور ‘ملنگ نما’ افراد کا جمع ہونا معمول بن چکا ہے، جہاں نہ صرف نشے کی چیزیں دستیاب ہوتی ہیں بلکہ بعض اوقات چھوٹے موٹے جرائم اور غیر اخلاقی معاملات بھی سرزد ہوتے ہیں۔

مقامی رہائشیوں اور عبادت گاہوں کے ذمہ داران نے انتظامیہ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستانوں کی نگرانی بڑھائی جائے، شبانہ گشت متحرک کیا جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں سی سی ٹی وی یا روشنی کا انتظام کیا جائے تاکہ ایسے عناصر کے آنے جانے پر قابو پایا جا سکے۔

شہریوں نے کہا کہ حساس مقامات پر دیرینہ مریدین اور بزرگوں کے تحفظ کے لیے متواتر دورے کیے جائیں اور متاثرہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

قبرستانوں کے تقدس اور عبادت گزاروں کی فلاح و حفاظت کے لیے مقامی مذہبی رہنماؤں نے بھی عوامی آگاہی مہم چلانے اور نوجوانوں کو منشیات کے خطرات سے بچانے کے لیے اسکولوں اور مساجد میں تقریبات منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

شہریوں نے زور دیا کہ مسئلے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا یا تو یہ ڈیرے اصلاح کے لیے شامل کیے جائیں یا مناسب قانونی کارروائی کے ذریعے ختم کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button