عیدالاضحیٰ؛ جہلم میں مہنگے جانوروں کے باعث مویشی منڈیاں سنسان، شہری اجتماعی قربانی کو ترجیح دینے لگے

جہلم: قربانی جیسے عظیم دینی فریضے کی ادائیگی کے لیے شہر بھر میں سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں، تاہم منہ زور مہنگائی نے اس بار خریداروں کو جانوروں کی منڈیوں سے دور کر دیا ہے۔

قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث شہری اپنی مدد آپ کے تحت یا رفاہی تنظیموں کے ذریعے اجتماعی قربانی کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔

جہلم شہر اور گردونواح کی مویشی منڈیاں سنسان دکھائی دیتی ہیں، بیوپاری دن بھر انتظار کے باوجود خریدار نہ ملنے پر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

بیوپاریوں کے مطابق رواں سال جانوروں کی قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں دوگنا تک بڑھ چکی ہیں۔ ایک درمیانے درجے کا جانور جو پچھلے سال 70 سے 80 ہزار روپے میں فروخت ہو جاتا تھا، اس سال ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد قیمت پر دستیاب ہے۔

خریداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی اب انفرادی سطح پر ممکن نہیں رہی، اسی لیے وہ بیل اور اونٹ جیسے بڑے جانوروں میں اجتماعی قربانی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مختلف رفاہی تنظیمیں اور دینی ادارے اجتماعی قربانی کے لیے مہمات چلا رہے ہیں، تاکہ کم آمدنی والے افراد بھی قربانی کے اس فریضے سے محروم نہ رہیں۔

عوامی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت مویشی منڈیوں میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے اور بیوپاریوں کو مناسب ریلیف فراہم کرے، تاکہ عام شہری بھی اس اہم مذہبی فریضے کو پورے وقار کے ساتھ ادا کر سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button