جہلم اور گردونواح میں افطاری کے وقت گیس پریشر کم، شہری پریشان

جہلم شہر اور ملحقہ علاقوں میں گزشتہ روز بھی افطاری کے وقت گیس پریشر انتہائی کم رہا، جس کے باعث گھریلو خواتین کو افطاری کی تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہِ صیام میں بھی صارفین کی مشکلات کم نہ ہو سکیں جبکہ حکومت کی جانب سے ریلیف دینے کے بلند و بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ رمضان المبارک میں افطاری اور سحری کے وقت گیس لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، مگر پہلے ہی روزے سے حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی۔
محکمہ سوئی نادرن گیس پائپ لائن کی ناقص کارکردگی کے باعث شہریوں کو گیس پریشر کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے گھریلو خواتین کو امورِ خانہ داری اور افطاری کی تیاری میں سخت دشواری پیش آ رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جہلم سے منتخب ہونے والے ممبرانِ قومی اسمبلی انتخابات میں عوام سے ووٹ لے کر کامیاب تو ہو گئے مگر جیتنے کے بعد اپنی رہائش گاہیں اسلام آباد اور راولپنڈی منتقل کر چکے ہیں۔ عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی کے باعث جہلم کے شہری مسائل کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ کوئی بھی منتخب نمائندہ ان مسائل کو قومی اسمبلی میں اجاگر کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ماہِ صیام میں گیس کی بندش اور پریشر میں کمی کے باعث گھریلو صارفین کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، جس پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر منتخب نمائندے عوام کے بنیادی مسائل کے حل میں ناکام رہے تو آئندہ انتخابات میں اہل اور عوام دوست امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا تاکہ ضلع جہلم کے عوام کو درپیش مسائل سے چھٹکارہ مل سکے۔



