مہنگائی کے بے رحم جھٹکوں نے عوام کو بے بس کر دیا، سرکاری نرخنامے نظرانداز

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہروں نے غریب اور سفید پوش طبقے کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
اشیائے خورونوش کی قیمتیں سرکاری نرخنامے اور دکانداروں کے من مانی نرخوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق دکھا رہی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث عوام دکانداروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں۔
دودھ کا سرکاری نرخ 180 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے، لیکن دودھ فروش 210 سے 220 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ روٹی 15 روپے کی بجائے 20 روپے میں اور نان 20 روپے کی بجائے 25 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ ان کا وزن بھی مقررہ مقدار سے کم ہے۔
اسی طرح چاول 250 روپے فی کلو کی بجائے 300 سے 350 روپے تک، اور دال چنا 215 روپے کے بجائے 280 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی بے قابو اضافہ ہو چکا ہے اور دکاندار من مانی قیمتوں پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے پرائس کنٹرول کے حوالے سے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے، جس کی وجہ سے دکانداروں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
عوام نے ارباب اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری نرخنامے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اقدامات نہ کیے تو مہنگائی کی یہ لہر مزید تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔



