سرکاری ملازمین کو سالانہ 22 ارب روپے کی مفت بجلی کا انکشاف

ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حکومتی کمپنیوں کے ملازمین کو سالانہ 22 ارب روپے کی مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
یہ سہولت ملک بھر میں ڈسکوز، جنکوز، واپڈا، این ٹی ڈی سی، سی پی پی اے، پی ائی ٹی سی، اور پی پی ایم سی جیسے اداروں کے ملازمین کو دی جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق مختلف گریڈز کے ملازمین کو مختلف مقدار میں بجلی کے یونٹس فراہم کیے جاتے ہیں:
• گریڈ 1 سے 4 کے ملازمین کو 100 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 5 سے 10 کے ملازمین کو 150 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 11 سے 15 کے ملازمین کو 200 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 16 کے افسران کو 300 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 17 کے افسران کو 450 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 18 کے افسران کو 600 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 19 کے افسران کو 880 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 20 کے افسران کو 1100 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 21 کے افسران کو 1300 یونٹس ماہانہ
• گریڈ 22 کے افسران کو 2000 یونٹس ماہانہ
مجموعی طور پر، ایک لاکھ 90 ہزار ملازمین کو اس مفت بجلی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، نگران حکومت نے نومبر 2023 میں بجلی کی حکومتی کمپنیوں کے گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کی مفت بجلی کی فراہمی ختم کر دی تھی، لیکن افسران نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا، جس کے بعد منتخب حکومت نے کیس کی پیروی نہیں کی۔
یہ خبر سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس معاملے پر فوری ایکشن لے اور ملکی وسائل کے ضیاع کو روکے۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



