جہلم کا حلقہ این اے 61 زبوں حالی کا شکار، پنڈدادنخان کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم

جہلم کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 61 منتخب نمائندوں کی عدم دلچسپی کے باعث مونجوداڑو کا منظر پیش کرنے لگا۔ تحصیل پنڈدادنخان میں داخل ہونے کے لیے کوئی بھی سڑک سفر کے قابل نہیں رہی، جس کے باعث حادثات اور ایمرجنسی کی حالت میں مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے جہلم تاللِہ دو رویہ 128 کلومیٹر طویل سڑک کی منظوری کے لیے فنڈز جاری کروائے تھے اور ایف ڈبلیو او نے کام کا آغاز بھی کر دیا تھا۔ تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس منصوبے کے فنڈز روک دیے۔ دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن فنڈز کی بحالی نہ ہونے کے باعث یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔

تحصیل پنڈدادنخان کی عوام سخت مشکلات میں مبتلا ہیں، کیونکہ تحصیل میں داخل ہونے کے لیے کوئی قابلِ سفر سڑک موجود نہیں۔ تشویشناک حالت میں اسپتال ریفر ہونے والے مریض اکثر راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

شہریوں نے شکایت کی کہ الیکشن کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے کامیابی کی صورت میں ٹوبہ ٹراما سینٹر، للِہ جہلم دو رویہ سڑک کا کام فوری شروع کروانے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے تحصیل پنڈدادنخان کو فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔

عوام کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ترقی یافتہ دور میں بھی تحصیل پنڈدادنخان کے باسی پتھر کے دور میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اہل علاقہ نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے اور فنڈز جاری کروا کر اس اہم منصوبے کو مکمل کروایا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button