بانی پی ٹی آئی چاہتے کسی طرح این آراو کے ذریعے ان کی جان چھوٹ جائے، بلال اظہر کیانی

جہلم سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان چاہتے ہیں کسی طرح این آراو کے ذریعے جان چھوٹ جائے۔ ایک دن گلے پڑتے اوراگلے دن پاؤں پڑ جاتے،کہتے نیوٹرل جانور ہوتا ہے، پھرمذاکرات کیلئے فوج کو پکارتے، کہتے کہ کوئی جلسہ روک کردکھائے ، پھر عمران خان نے صبح سات بجے جلسہ خود روک دیا۔

انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخترمینگل کو بات کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے بات بھی کی۔ اخترمینگل کو بات کرنے کیلئے مائیک دیا تھا تو حامد حسین نے کورم پوائنٹ آؤٹ کردیا گیا، جب کورم پوائنٹ آؤٹ ہوجائے تو پھر بات نہیں کی جاسکتی اور اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ نوازشریف اور فضل الرحمان کے درمیان تین دہائیوں سے تعلقات ہیں، مولانا فضل الرحمان اور شہبازشریف کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے، پارلیمان فیصلے کرنے کیلئے بااختیار ہے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اپوزیشن بنچوں سے کچھ اراکین نے بلوچستان مسائل پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ اختر مینگل کے ساتھ ہمارا پی ڈی ایم حکومت میں بھی تعلق تھا اور بعد میں پی ڈی ایک حکومت میں بھی سلسلہ چلتا رہا ہے۔سردار اخترمینگل سے ڈائیلاگ چلتا رہے گا۔ وزیراعظم خود کوئٹہ گئے ، حکومت بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان چاہتے ہیں کسی طرح ان کی جان چھوٹ جائے،ایک دن گلے پڑتے اوراگلے دن پاؤں پڑ جاتے،کہتے نیوٹرل جانور ہوتا ہے، پھر فوج کو پکارتے کہ کوئی نمائندہ منقرر کردیں، عیدین پر اعلان کئے کہ عوام کا جم غفیر نظر آئے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ جلسہ روک کرکوئی دکھائے، عمران خان نے صبح سات بجے خود روک دیا۔ بانی پی ٹی نے جلسہ چار بار ملتوی کیا۔بانی پی ٹی آئی چاہتے کسی طرح این آراو کے ذریعے جان چھوٹ جائے،ایک دن گلے پڑتے اوراگلے دن پاؤں پڑ جاتے، کہتے نیوٹرل جانور ہوتا ہے، پھر فوج کو پکارتے کہ کوئی نمائندہ مقرر کردیں۔

ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ عیدین پر اعلان کئے کہ جلسے میں عوام کا جم غفیر نظر آئے، انہوں نے کہا کہ جلسہ روک کرکوئی دکھائے،عمران خان نے صبح سات بجے خود روک دیا۔ بانی پی ٹی نے جلسہ چار بار ملتوی کیا۔ اعظم سواتی نے خود کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ بلوچستان کے شہریوں کے تحفظ کیلئے بھی تقاضے پورے کررہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button