جہانگیر ترین کا پیپلزپارٹی میں آنا ایک نیک شگون ہے، یوسف رضا گیلانی

جہلم: سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جہانگیر ترین میرے بھائی اور قریبی عزیز ہیں، اگر وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ایک نیک شگون ہوگا، ان کی شمولیت سے پارٹی مزید مضبوط اور فعال بنے گی۔

چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے دورہ جہلم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب صرف لاہور تک محدود نہیں، یہ ایک بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی بارہ کروڑ سے زائد ہے اور بہت سے ممالک سے بڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں اب بھی پسماندگی، بے روزگاری، تعلیمی کمی اور شعور کی کمی ہے، جس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سنٹرل پنجاب کو بھی برابری کی بنیاد پر حقوق دے۔

انہوں نے اپنے دورہ جہلم کے دوران شہر کے معروف روحانی مرکز دربار پیر پشاوری شریف کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سجادہ نشین پیر سید امیر حمزہ کرمانی کے ہمراہ دربار پر حاضری دی، چادر چڑھائی اور ملک و قوم کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی۔ وہ پیر سید قاسم علی شاہ اور پیر سید شبیر علی شاہ کے ہمراہ سالانہ عرس مبارک کی تقریب میں بھی شریک ہوئے۔

بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ وہ ہماری پارٹی کے چیئرمین ہیں، ان کی سیاسی تربیت سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی سرپرستی میں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان اور وزیر اعظم کی طرف سے بیرون ملک جو ٹیم بھیجی گئی، اس نے بلاول بھٹو کی قیادت میں عالمی سطح پر پاکستان کا بھرپور دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے جانب سے پاکستان پر لگائے گئے دہشت گردی کے الزامات کو بلاول بھٹو نے عالمی سطح پر مؤثر انداز میں رد کیا، اور پانی جیسے حساس معاملے پر بھی دنیا کو پاکستان کا مؤقف واضح طور پر بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو یہ اعلانِ جنگ کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلگام واقعہ پر پاکستان نے مکمل تحقیقات کی پیشکش کی تھی، جس سے دنیا کو ہماری نیت کا اندازہ ہوا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، بھارت، چین اور روس نیوکلیئر پاور ہیں، اور اگر پاک بھارت جنگ نہ رُکتی تو یہ صورتحال تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔ اس بحران کو روکنے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم کردار تھا۔

چیئرمین سینیٹ نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوام کو ریلیف دینا ہے، جو کہ اس وقت آئی ایم ایف کی شرائط، عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور یوکرائن، روس، اسرائیل اور ایران جیسے تنازعات کے اثرات کی وجہ سے انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جبکہ پارٹی نے سینیٹ میں بجٹ پر ووٹ کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ممکن ہے کہ قومی اسمبلی میں انہوں نے ایسا کیا ہو، مگر سینیٹ میں ان کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button