صرف گوشت نہیں، قربانی کا جذبہ بھی تقسیم کیجیے، سعد محمد مدنی

جہلم:  سعد محمد مدنی نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ ایثار، اخوت، محبت اور امت کے محروم طبقات کو خوشیوں میں شریک کرنے کا عظیم پیغام بھی ہے۔

خطبہ جمعہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مدیر امورِ داخلی جامعہ علوم اثریہ جہلم و فاضل مدینہ یونیورسٹی سعد محمد مدنی نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سنتِ ابراہیمیؑ کے ساتھ اُس سنتِ مبارکہ کو بھی زندہ کیا جائے جس میں نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرامؓ اور ضرورت مند مسلمانوں کو قربانی کے جانور عطا فرمایا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ الحمدللہ ہمارے معاشرے میں قربانی کا جذبہ آج بھی زندہ ہے اور شدید مہنگائی، معاشی دباؤ اور مالی مشکلات کے باوجود لاکھوں مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے قربانی کرتے ہیں۔ تاہم صاحبِ حیثیت افراد اگر اپنی متعدد قربانیوں میں سے کچھ جانور اُن گھروں تک پہنچا دیں جہاں قربانی کی خواہش تو موجود ہے مگر استطاعت نہیں، تو یہ عمل عظیم سماجی خدمت اور اضافی اجر و ثواب کا باعث بن سکتا ہے۔

سعد محمد مدنی نے کہا کہ آج شہروں کے پوش علاقوں میں ایک ہی مقام پر کئی کئی قربانیاں ہوتی ہیں جبکہ دیہات، متوسط اور سفید پوش گھرانے قربانی کی خوشیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اگر صاحبِ ثروت افراد اپنے عزیزوں، مستحق رشتہ داروں، آئمہ مساجد، دینی طلبہ، ملازمین یا نادار خاندانوں کو قربانی کے جانور تحفے میں دیں تو بے شمار گھروں میں عید کی حقیقی خوشی داخل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی غریب گھر کے بچے اپنے صحن میں قربانی کا جانور دیکھتے ہیں تو ان کے چہروں پر آنے والی خوشی اور دل سے نکلنے والی دعائیں یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر کا سبب بنتی ہیں۔ یہی جذبہ معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات ایک ہی جگہ بہت زیادہ قربانیاں ہونے سے گوشت صحیح مستحقین تک مکمل طور پر نہیں پہنچ پاتا، جبکہ اگر قربانیوں کو مختلف علاقوں اور گھروں تک پھیلا دیا جائے تو فائدہ زیادہ وسیع اور مؤثر ہو جاتا ہے۔

سعد محمد مدنی نے صاحبِ استطاعت افراد کو تلقین کی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اس نعمت کا بہترین استعمال یہی ہے کہ اس خوشی کو دوسروں تک بھی پہنچایا جائے۔ بیرونِ ملک مقیم افراد یا مصروفیات کے باعث خود یہ کام نہ کر سکنے والے لوگ بھی کسی قابلِ اعتماد شخص کے ذریعے اس نیکی میں حصہ لے سکتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اس عیدالاضحیٰ صرف گوشت نہ بانٹیں بلکہ قربانی کی خوشی بھی تقسیم کریں تاکہ سنتِ محمدی ﷺ زندہ ہو، محروم گھروں میں خوشیاں آئیں اور معاشرے میں اخوت، محبت اور رحمت کا خوبصورت ماحول پیدا ہو۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button