جہلم میں کم عمر و ناتجربہ کار رکشہ ڈرائیورز شہریوں کے لیے خطرہ بن گئے

جہلم شہر اور گردونواح میں کم عمر، ادھیڑ عمر اور ناتجربہ کار رکشہ ڈرائیورز کی بھرمار نے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح نے ٹریفک پولیس، موٹر وہیکل ایگزمینر اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی کارکردگی کو مشکوک بنا دیا ہے۔
جہلم شہر کی سڑکوں پر رکشہ، موٹرسائیکل اور کاریں چلانے والے افراد میں بڑی تعداد ان بچوں، ضعیف افراد اور اناڑی ڈرائیورز کی ہے جنہیں نہ تو ڈرائیونگ کا تجربہ ہے اور نہ ہی ٹریفک قوانین کی آگاہی۔ کئی کم عمر بچے رکشے چلاتے نظر آتے ہیں جنہیں دیکھ کر شہری حیرت اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
یہی ناتجربہ کار ڈرائیورز ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ بن رہے ہیں، جن میں کئی شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد مختلف ہسپتالوں میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ٹریفک قوانین کی اس کھلی خلاف ورزی کے باوجود متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
شہری حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریفک پولیس، وی ای ایم (موٹر وہیکل ایگزمینر) اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا عدم اقدام ناقابلِ فہم ہے۔
عوامی، سماجی اور فلاحی تنظیموں نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، ڈی آئی جی ٹریفک مرزا فاران بیگ اور ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے اب بھی خواب غفلت سے نہ جاگے تو یہ غفلت مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔



