ضلع جہلم میں گندم کی کٹائی کا آغاز، سرکاری نرخ مقرر نہ ہونے پر کاشتکار شدید پریشان

جہلم: ضلع جہلم کے مختلف علاقوں میں گندم کی کٹائی کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے، تاہم سرکاری نرخ کے عدم تعین نے کسانوں کی خوشی کو تشویش میں بدل دیا ہے۔
تحصیل جہلم کے نواحی علاقے چک مغلاں سمیت دیگر دیہی علاقوں میں گندم کی فصل سنہری بالیوں کی صورت میں کسانوں کی محنت کا ثمر بن کر کھیتوں میں جھوم رہی ہے، لیکن کاشتکاروں کو مناسب معاوضہ نہ ملنے کا خدشہ لاحق ہے۔
کٹائی کے اس عمل میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ کھیتوں میں درانتیوں کی کھنک اور تھریشر مشینوں کی گرج نے دیہی علاقوں کو ایک پرجوش ماحول میں بدل دیا ہے۔ ہر طرف کسان محنت میں مصروف ہیں، لیکن ان کے چہروں پر مہنگائی اور لاگت کے بوجھ کی چھاپ بھی واضح دکھائی دیتی ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اگر جلد از جلد گندم کا سرکاری نرخ مقرر نہ کیا گیا تو وہ نقصان میں جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھاد، بیج، زرعی ادویات، پانی اور مزدوری کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، لیکن گندم کی ممکنہ فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ان اخراجات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔
ایک مقامی کسان نے کٹائی کے دوران مہنگائی کے خلاف نظم کے ذریعے اپنا دکھ بیان کیا، جس نے ماحول کو تو ہلکا پھلکا کر دیا، مگر نظم کی سچائی ہر سننے والے کے دل کو چیر گئی۔ نظم کا ایک مصرع کچھ یوں تھا:
"کٹتے ہیں گندم کے خوشے، پر جیب خالی رہتی ہے
روٹی مہنگی ہو چکی، مزدوری سستی کہتی ہے”
کسان برادری اور عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی فی من قیمت مقرر کرتے وقت صرف فصل کی پیداوار نہیں بلکہ کاشت پر آنے والے تمام اخراجات اور کسانوں کی محنت کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا معقول معاوضہ مل سکے اور وہ آئندہ بھی ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پُرعزم رہیں۔



