یومِ تکبیر سے بنیان المرصوص تک۔۔!

28 مئی 1998، ایک ایسا دن جس نے دنیا کے نقشے پر موجود پاکستان کو صرف ایک ریاست ہی نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی ڈھال اور غیرتِ ایمانی کا استعارہ بنا دیا۔ اسی دن چاغی کے پہاڑوں نے لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے دھماکوں کی گونج میں یہ اعلان کیا کہ پاکستان اب صرف جغرافیائی نہیں، نظریاتی طور پر بھی ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے۔
یہ صرف ایٹمی دھماکے نہ تھے، یہ ایمان، قربانی، جرأت اور غیرتِ ملی کا اعلانِ حق تھا۔ وہ دن، جب ملتِ اسلامیہ کا سپوت، محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم اپنی شب و روز کی عبادات جیسے محنت کے بعد رب کے حضور سرخرو ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب اللہ کے ایک ولی صفت بندے نے سجدوں میں کیے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنایا اور پاکستان کو ایسی طاقت عطا کی جس سے دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔
لیکن یہ سب ممکن تب ہوا جب ایک باہمت قائد محمد نواز شریف نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ ’’نہیں، ہم دباؤ میں نہیں آئیں گے!‘‘ عالمی دھمکیاں، اقتصادی لالچ اور سیاسی تنہائی کی دھمکیاں اُس کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کر سکیں۔ اس نے امت کو سرخرو کرنے کے لیے فیصلہ کیا، اور تاریخ نے اسے سربلند کر دیا۔لیکن یہ داستان یہاں ختم نہیں ہوتی۔ یہ ایک سفر ہے "ایک تسلسل”جو آج بھی جاری ہے۔
آج جب وطنِ عزیز کو ایک بار پھر بھارتی سازشوں، داخلی انتشار، اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرات کا سامنا ہے، تو پاک فوج اور ریاستی ادارے ایک اور اہم مرحلے سے گزر رہے ہیںاور اس کا نام ہے.
"آپریشن بنیان المرصوص”
یہ آپریشن صرف فوجی کاروائی نہیں، بلکہ یہ اس نظریے کا تسلسل ہے جو یومِ تکبیر کے روز چاغی سے بلند ہوا تھا۔ یہ پیغام ہے دشمن کو کہ "ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے”
آپریشن بنیان المرصوص دراصل دشمن کے ان تمام ناپاک عزائم کے خلاف ایک فکری، نظریاتی اور عسکری بند ہے جو پاکستان کو اندرونی خلفشار اور بیرونی دباؤ سے مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” کی پشت پناہی سے کام کرنے والے گروہ، ملک دشمن بیانیے، اور دہشت گرد تنظیمیں—یہ سب اب اس فولادی دیوار سے ٹکرا رہے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ کبھی کشمیر میں، اور کبھی بلوچستان میں۔ مگر ہر بار اُسے عبرت ناک شکست ہوئی۔ حالیہ حملوں کے بعد کی پاکستانی فضائی کارروائی نے دنیا کو باور کرا دیا کہ پاکستان نہ صرف جوابی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ برتری دکھانے کی ہمت بھی رکھتا ہے۔
یومِ تکبیر کی طرح، آپریشن بنیان المرصوص بھی قوم کی غیرت اور اداروں کی یکجہتی کا مظہر ہے۔ یہ آپریشن محض فائرنگ یا گرفتاریوں کا نام نہیں، یہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا بیانیہ ہے۔ یہ پیغام ہے ہر اس دشمن کے لیے جو ہمارے اتحاد کو توڑنا چاہتا ہے:
"ہم وہ قوم ہیں جس نے چاغی کے سناٹوں کو تکبیر کی صدا میں بدلا، ہم وہ ملت ہیں جو اپنا دفاع ایمان سے کرتی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ہر گلی، ہر محلہ، ہر سپاہی، ہر شہری—بنیان المرصوص بن جائے گا۔”
آج یومِ تکبیر کے موقع پر ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ دن صرف ماضی کی کامیابی کا جشن نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داری کا تجدیدِ عہد ہے۔ ہمیں اپنے اندر قومی وحدت، فکری پختگی، اور عملی جدوجہد کو پروان چڑھانا ہوگا تاکہ پاکستان کو اندرونی و بیرونی محاذوں پر ناقابل شکست بنایا جا سکے۔
ہم سلام پیش کرتے ہیں نواز شریف کو، جنہوں نے ایٹمی فیصلے کی جرأت کی۔ ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کو، جنہوں نے خواب کو تعبیر بنایا اور ہم سلام پیش کرتے ہیں پاک فوج اور خفیہ اداروں کو، جو آج بھی بنیان المرصوص بن کر دشمن کی ہر سازش کو خاک میں ملا رہے ہیں۔
یہ پاکستان ہے۔ ایٹمی پاکستان۔ نظریاتی پاکستان۔ امتِ مسلمہ کا فخر۔!



