خادم قرآن، عاشق قرآن، داعی قرآن

ہمارے والد گرامی خادم القرآن حضرت مولانا قاری محمد اسحاق فاروقی نوراللّٰہ مرقدہ نے 1976ء میں قرآن کریم حفظ مکمل کیا۔

پھر استاذ القراء حضرت قاری مشتاق احمد صاحب رحمہ اللّٰہ سے تجوید و قرأت پڑھی اور حضرت قاری سید حسن شاہ صاحب بخاری رحمہ اللّٰہ (قاری سید انوار الحسن شاہ صاحب بخاری کے والد ماجد) کو امتحانات دیے اور فن قرأت میں ان سے نوک پلک سنواری۔

اپنے اساتذہ کے بارے میں خود فرماتے تھے کہ: "وہ کہنہ مشق، کامیاب مدرس اور بہترین مجود و مشاق استاد تھے۔”

دوران تجوید روزانہ دو پارے حدر میں پڑھنے کی ترتیب تھی۔ 1976ء سے تا دم آخر رمضان المبارک میں تسلسل سے قرآن کریم سنایا اور غیر رمضان میں جہری نمازوں (یعنی فجر، مغرب اور عشاء) میں بالترتیب وہ سال میں دو مرتبہ قرآن کریم مکمل کرلیتے تھے۔

مجھے رمضان المبارک اور غیر رمضان میں متعدد مرتبہ ان کے ساتھ عمرہ ادائیگی کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ سفر حجاز میں ان کا معمول تھا کہ اسلام آباد ائیرپورٹ سے ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے اور مقررہ مقدار مکمل کرتے، راستے میں عموماً پانچ گھنٹے کی فلائٹ میں وہ اسلام آباد سے جدہ پہنچنے تک یا کبھی فلائٹ براستہ کراچی، قطر یا کویت ہوتی تو جہاں تلبیہ کا اہتمام کرتے وہاں زیادہ ساتھ قرآن کریم کی تلاوت بھی کرتے تھے۔ جہاز میں کبھی کچھ دیر کیلئے وقفہ کرتے تو اپنی ڈائری لکھ لیتے۔

مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف شروع کرنے سے لیکر سعی مکمل ہونے تک بالترتیب قرآن کریم کی منزل پڑھتے اور عمرہ مکمل ہونے پر ان کا قرآن کریم مکمل ہو جاتا، یہ ان کا ہمیشہ معمول رہا۔

جب کبھی رمضان المبارک میں ہم عمرہ ادا کرنے جاتے تو حرمین شریفین کی تراویح مکمل ہو جانے کے بعد وہ حرم مکی میں سب سے اوپر والے چھت پر تین گنبدوں والی جگہ پر خانہ کعبہ کے بالکل سامنے اور مسجد نبوی میں ریاض الجنہ سے پیچھے چھتریوں والی جگہ پر نوافل میں میری منزل سنا کرتے تھے اسی بہانے مجھے بھی حرمین شریفین میں قرآن کریم سنانے کی سعادت نصیب ہوتی رہی۔

یعنی رات امام حرم کے پیچھے تراویح ادا کیں، پھر نوافل میں میری منزل سنی، اتنے میں قیام الیل کا وقت ہو جاتا، اپنے نوافل پڑھتے، اذان فجر ہوتی اور نماز ادا کرکے رہائش گاہ چلے جاتے۔

قرآن کریم کی تلاوت کے حوالے سے ان کا ذوق اور مزاج تصنع، بناوٹ اور تکلفات وغیرہ سے کوسوں دور اور موجودہ روایتی قراء سے بالکل مختلف تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اساتذہ جیسا مخلص، باعمل، محنتی اور شفیق استاذ کسی کو نہیں سمجھتے تھے۔

قرآن کریم کی منزل میں غلطی پر ان کی گرفت حیرت انگیز تھی، اکثر تین تین اور چارچار طلبہ ایک ساتھ منزل سناتے تھے اور وہ بیک وقت چاروں پر گرفت کرلیتے تھے۔

الغرض والد گرامی رحمہ اللّٰہ کا قرآن کریم کی تعلیم و تدریس سے اس قدر گہرا تعلق تھا کہ گویا قرآن کریم کی منزل ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی ہو۔ اس ضمن میں بلامبالغہ ان کے سیکڑوں واقعات قلمبند کیے جاسکتے ہیں۔

قرآن کریم سے کس قدر گہرا تعلق تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے بوقت واپسی بھی انہیں قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول کردیا، زخموں سے چور اور ناقابل بیان حالت کے باوجود آخری وقت وہ خود سورۃ یٰسین شریف کی تلاوت فرما رہے تھے اور "سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ” آیت مبارکہ کو بار بار دھرا رہے تھے، سامنے جیسے کچھ دکھائی دے رہا ہو اور اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ سبحان اللّٰہ

دنیا کا سورج حسب معمول طلوع ہو رہا تھا اور ان کی زندگی کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہو رہا تھا۔

یوں وہ ہمیں، اپنے سیکڑوں حفاظ، قراء، علماء شاگردوں کو اور بیشتر مساجد و مکاتب کو اپنے لیے صدقہ جاریہ چھوڑ کر الوداع ہوگئے۔

قبائے نور سے سج کر، لہو سے باوضو ہو کر
وہ پہنچے بارگاہ ِ حق میں کتنے سرخرو ہو کر

فرشتے آسماں سے ان کے استقبال کو اترے
چلے ان کے جلو میں باادب، باآبرو ہو کر

رب تعالیٰ والد گرامی رحمہ اللّٰہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور ہمیں ان کے مبارک نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاص کے ساتھ خدمت دین کیلئے قبول فرمائے رکھے۔
آمین بجاہ النبی الکریم

لکھاری قاری محمد نعمان فاروقی جامعہ صدیقیہ قادریہ کے مدیر اور مرکزی جامع مسجد مدنی محلہ شمالی ڈومیلی، ضلع جہلم کے خطیب ہیں.

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button