سول نافرمانی کی کال پر 3 فیصد بھی عمل ہوتا ہے تو بہت نقصان ہوگا، فواد چوہدری

فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سول نافرمانی کی کال پر 3 فیصد بھی عمل ہوتا ہے تو بہت نقصان ہوگا، حکومت کو بچنے کیلئے گفتگو کرنی چاہیے۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ میری نظر میں حکومت سول نافرمانی سے بچنے کیلئے گفتگو کرنی چاہیے، پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، جیل میں ڈالا گیا لیکن پارٹی ختم نہ ہوسکی۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا لیکن ان کیخلاف کوئی بیانیہ نہ بناسکے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کچھ بھی کہتے ہیں تو وہ بیانیہ بن جاتا ہے، ایسے حالات میں عمران خان سے بات کرنی چاہیے معاملات طے کرنے چاہئیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپوزیشن جماعتوں کیساتھ الائنس بنانا چاہیے، پی ٹی آئی کو جے یو آئی ف کیساتھ الائنس کو آگے بڑھانا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر جو مہم چلاتے ہیں وہ پی ٹی آئی کا نام استعمال کرتے ہیں، بیرون ملک بیٹھے لوگ پیسے بنانے کیلئے سوشل میڈیا مہم چلاتے ہیں، جو حالات ہیں اس میں نقصان پاکستان، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کو ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے جو حالات ہیں اس میں صرف فائدہ ن لیگ کو ہورہا ہے، عمران خان کو ویسے ہی اتنی سزائیں سنادی ہیں ایک اور سزا سے کیافرق پڑیگا، پی ٹی آئی اس وقت بیک فٹ پر ہے اور یہ بات چیت کا اہم موقع ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے بغیر سیاسی ماحول نہیں بن سکتا، دو سال میں دیکھ بھی لیا، شہبازشریف، مریم نواز چاہتے نہیں کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات ہوں۔ سیاسی درجہ حرارت نیچے آنا شہبازشریف کے حق میں نہیں، ن لیگ کی کوشش ہوتی ہے سیاسی درجہ حرارت اوپر ہی رہے۔

فوادچوہدری نے کہا کہ بانی نے کہا کہ حکومت مثبت رویہ دکھاتی ہے تو سول نافرمانی تحریک آگے کریں، سیاسی مقدمات ہیں اور اسی لیے عمران خان کو جیل میں رکھا جارہا ہے، یہ کہنا پی ٹی آئی بند گلی میں آگئی غلط ہے، سیاست میں ہردن نیا دن ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button