سارہ شریف قتل کیس میں والد عرفان شریف اور سوتیلی والدہ کو عمر قید کی سزا

سارہ شریف قتل کیس میں جہلم کے رہائشی والد عرفان شریف اور والدہ بینش بتول کو عمرقید کی سزائیں سنا دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سارہ شریف قتل کیس میں اولڈ بیلی کراؤن کورٹ نے مقتولہ کے باپ اور سوتیلی ماں کو مجرم قرار دیے جانے کے بعد سزا سنائی۔
جج جان کواناگ نے کہا کہ سارہ پر تشدد فیملی کےسامنے ہوا اور چچا فیصل ملک بھی دیکھتا رہا، تم میں سے کسی نےبھی افسوس کا اظہار نہیں کیا تم 6 دن انکار کرتے رہے کہ میں نے تشدد نہیں کیا۔
جج کا کہنا تھا کہ والدہ بینش اور والد عرفان شریف دونوں ٹرائل میں خاموش رہے سزا کا کم سے کم وقت ختم ہونے کے بعد بھی رہائی کی گارنٹی نہیں، کم سے کم سزا کا وقت ختم ہونے کے بعد پیرول فیصلہ کرے گا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جیل سے رہا ہونے کے بعد ساری عمر بینش اور عرفان لائسنس پر رہیں گے رہائی کے بعد موت تک لائسنس کی خلاف ورزی کی تو دوبارہ جیل جانا ہو گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 10 سالہ سارہ شریف اگست 2023 میں اپنے بستر پر مردہ پائی، ان کا جسم جگہ جگہ سے کٹا ہوا تھا اور زخموں کے نشانات واضح تھے، ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور جلنے کے نشانات بھی پائے گئے تھے۔
پوسٹ مارٹم سے پتا چلا کہ سارہ کے جسم پر 100 سے زیادہ زخم تھے اور کم از کم 25 ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ان کے 43 سالہ والد عرفان شریف جو کہ پاکستان کے ضلع جہلم کے علاقہ کڑی جنجیل کے رہائشی ہیں نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے ان کی موت سے چند ہفتے قبل اسے کرکٹ کے بیٹ سے مارا تھا، اس نے اپنے ننگے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ دیا اور اس کی گردن کی ہڈی کو توڑ دیا۔
آج ہونے والے سماعت کے دوران عدالت نے سارہ شریف کے والد کو 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
جسٹس جان کاوناگ نے فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’مقتول سارہ شریف کے کے بڑے بھائی یا اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کے خلاف تشدد کا کوئی ثبوت نہیں ہے‘۔
جج نے سارہ شریف کے والد اور سوتیلی ماں کے مخاطب کرکے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ دونوں نے سارہ کی بہت کم پرواہ کی کیونکہ سارہ بینش بتول کی حقیقی اولاد نہیں تھی۔
جسٹس کاواناگھ نے ریمارکس دیے کہ ’اس مقدمے میں ظلم کی حد تقریباً ناقابل فہم ہے، یہ سب گھر والوں کے سامنے ہوا‘۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’سارہ اپنی موت کے وقت غذائی قلت کا شکار تھی اور ان کا وزن کم تھا، موت کی وجہ متعدد چوٹیں اور غفلت تھی، یہ چوٹ مجموعی طور پر سارہ کی موت کا سبب بنی۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ سارہ کو موت سے پہلے کے دنوں میں سر پر چوٹ لگنے کے بعد سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ پوسٹ مارٹم سے پتا چلا تھا کہ سارہ کے جسم پر 100 سے زیادہ زخم تھے اور کم از کم 25 ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
ان کے 43 سالہ والد عرفان شریف نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے ان کی موت سے چند ہفتے قبل اسے کرکٹ کے بیٹ سے مارا تھا، اس نے اپنے ننگے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ دیا اور اس کی گردن کی ہڈی کو توڑ دیا۔
عرفان شریف اور سارہ کی سوتیلی ماں 30 سالہ بینش بتول کو گزشتہ ہفتے لندن کے اولڈ بیلی میں 10 ہفتوں تک مقدمے کی سماعت کے بعد مجرم قرار دیا گیا تھا۔
بچی کے 29 سالہ چچا فیصل ملک کو ان کی موت کا سبب بننے یا اس کی اجازت دینے کا قصوروار پایا گیا تھا۔
سارہ کی زندگی کے آخری ایام میں ان پر ہونے والا تشدد بڑھتا چلا گیا۔ عرفان شریف نے عدالت میں اقرار کیا کہ انھوں نے کرکٹ بیٹ اور دھاتی ڈنڈے سے سارہ کو پیٹا تھا۔ تاہم سارہ کے جسم پر دانٹ سے کاٹنے کے نشان عرفان شریف کے دانتوں کے نمونوں سے نہیں ملے۔ عرفان نے سارہ کو استری سے جلانے کی بھی تردید کی۔ آخری ہفتوں میں سارہ کی ہڈیاں 25 بار ٹوٹیں لیکن ان کو ایک بار بھی ہسپتال نہیں لے جایا گیا۔
اگست میں فیونا، جو عرفان کے مکان کے عقب میں رہتی تھیں، ایک چیخ سنائی دی۔ چھ اگست کو سارہ کو گھر پر ٹی وی کے سامنے ڈانس کرتے ہوئے ایک ویڈیو میں دیکھا گیا جس میں وہ بظاہر ٹھیک تھیں۔ اسی دن ان کی سوتیلی والدہ کے وکیل کے مطابق عرفان نے ان کو ایک بار پھر پیٹا۔
آٹھ اگست کو سارہ کی حالت خراب ہونا شروع ہوئی۔ عرفان شریف نے فرض کر لیا کہ وہ ڈرامہ کر رہی ہے اور پھر سارہ کو دھاتی ڈنڈے سے دوبارہ پیٹا گیا۔ اسی رات دوسرے بچے، جس کا نام یو بتایا گیا، نے ایک دوست کو ٹیکسٹ میسج کیا: ’ہیلو، ارجنٹ، میری بہن مر گئی ہے۔‘
پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ’سارہ کی موت ایک ایسی بچی کی زندگی کا اختتام تھا جس کے لیے تشدد ایک عام سی بات ہو چکی تھی۔‘
سوشل سروس 13 سال سے اس خاندان کے بارے میں واقف تھی۔ والد کو تین بار پرتشدد رویے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ سکول انتظامیہ نے بارہا خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سارہ کو بچایا جا سکتا تھا۔
یاد رہے کہ مقتول سارہ کے والد عرفان شریف اور اس کی سوتیلی ماں بینش بتول بچی کے قتل کے سزاوار پائے گئےتھے۔ دوران سماعت عرفان شریف نے سارہ کو آئے زخموں کی ذمہ داری قبول کی تھی.
اس ماہ کے شروع میں سارہ شریف قتل کیس کی سماعت مکمل ہو گئی تھی اور جیوری کو اپنا فیصلہ سنانا تھا، 10 سالہ سارہ شریف کی لاش ووکنگ میں گھر سے گزشتہ سال 10 اگست کو ملی تھی۔
10 سالہ سارہ شریف کے قتل کیس میں والد، سوتیلی ماں اور چچا کے خلاف اولڈ بیلی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی تھی، جج نے جیوری کو اپنا فیصلہ دینے کے لیے کہا تھا۔
جیوری ممبران نے کیس پر غور کرنے کے بعد الگ الگ اپنا فیصلہ دیا، یہ جیوری 9 خواتین اور 3 مردوں پر مشتمل تھی، ہائیکورٹ کے جج نے جیوری ممبران کو ہدایت کی تھی کہ اگر ہو سکے تو وہ ایک متفقہ فیصلے کے ساتھ واپس آئیں۔



