رمضان کے دوسرے عشرے میں بھی مہنگائی برقرار، سرکاری نرخنامہ نظر انداز

جہلم: رمضان المبارک کے پہلے عشرے کے اختتام اور دوسرے عشرے کے آغاز کے باوجود جہلم شہر اور گردونواح میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی نہ آ سکی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ریٹ لسٹ جاری کرنے کے باوجود منافع خور دکاندار من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
چاروں تحصیلوں میں پھلوں اور گوشت کی قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں۔ بازاروں میں کیلا 350 روپے درجن، سیب 500 روپے فی کلوگرام، بکرے کا گوشت 2200 روپے اور گائے کا گوشت 1200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق کیلا 250 روپے درجن مقرر ہے، تاہم دکاندار اسے 350 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔ دیگر اشیاء میں بھی اسی طرح سرکاری نرخوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ روزہ داروں نے شکایت کی ہے کہ مہنگائی کے باعث افطار کے لیے بنیادی اشیاء کی خریداری بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے مریم نواز سمیت اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گراں فروشی کے خلاف عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور منافع خور عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔



