بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، رقم کی متقلی کیلئے نیا ماڈل متعارف

جہلم: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے حکام نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہر بینیفشری کا بینک اکاؤنٹ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بینک اکاؤنٹ کے ذریعے رقم منتقلی سے صارفین کو سہولت ملے گی ساتھ ہی پروگرام کی شفافیت میں بھی اضافہ ہو گا، اس منصوبے کا آغاز پہلے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر 8 شہروں میں کیا جائے گا جہاں صارفین بینکوں کے ذریعے براہ راست اپنی امدادی رقم وصول کر سکیں گے۔
یہ فیصلہ قومی اسمبلی کی تخفیف غربت کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت چیئرمین میر غلام علی نے کی۔ اجلاس میں BISP کے سیکریٹری نے اس منصوبے کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس نئے ماڈل سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے صارفین کے لیے رقم کی منتقلی کا عمل زیادہ محفوظ اور سہولت بخش ہوگا۔
سیکریٹری نے وضاحت کی کہ ہر بینیفشری کا بینک اکاؤنٹ کھولا جائے گا جس سے وہ کسی بھی بینک کی برانچ سے رقم نکال سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سہولت بھی مہیا کی جائے گی کہ صارفین مختلف بینکوں سے اپنی امدادی رقم وصول کر سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ منصوبہ خاص طور پر دیہی علاقوں کے صارفین کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ زیادہ تر بینک برانچز شہروں میں ہیں۔ اسی لیے حکام نے تجویز دی ہے کہ پوائنٹ آف سیل ایجنٹس کے ذریعے بھی رقم کی منتقلی جاری رکھی جائے تاکہ دیہی علاقوں کے صارفین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار خواتین ایسی ہیں جن کے انگوٹھوں کے نشانات کام نہیں کرتے۔ ان خواتین کو جنوری میں خصوصی کارڈ جاری کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی امدادی رقم آسانی سے حاصل کر سکیں۔
سیکریٹری نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 8 شہروں میں ایک پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا جو 3 ماہ تک جاری رہے گا۔ اس دوران صارفین کو نئے ماڈل کے تحت رقم کی فراہمی کی آزمائش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام بڑے بینکوں کو اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے صارفین کے لیے اکاؤنٹس کھولیں۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے، نیا ماڈل تمام بینیفشریز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
چیئرمین کمیٹی میر غلام علی نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سسٹم آٹو میشن پر منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ رقم کی منتقلی میں شفافیت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔



