پی ایس ایس پی کے تحت چلنے والے سکولوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور این جی اوز کے جعلی ڈیٹا کا انکشاف

سوہاوہ: ضلع جہلم میں پنجاب پبلک سکول سپورٹ پروگرام (PSSP) کے تحت مختلف این جی اوز کو چلانے کے لیے دیے گئے سکولوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ریکارڈ میں ہیر پھیر کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ شہریوں اور ذرائع نے متعلقہ اداروں سے ان الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے ضلع جہلم میں متعدد سرکاری سکول پی ایس ایس پی کے تحت مختلف این جی اوز کے حوالے کیے گئے ہیں، جہاں بعض سکولوں میں کم تجربہ رکھنے والے اور کم تعلیمی قابلیت کے حامل اساتذہ کی تعیناتی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث ان اداروں میں تعلیمی معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ضلع جہلم میں مسلم ہینڈز پاکستان کے زیرِ انتظام پی ایس ایس پی سکولوں کے حوالے سے بھی متعدد شکایات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض سکولوں کے انتظامی و تدریسی ریکارڈ کی تیاری میں مبینہ بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گرمیوں کی تعطیلات کے باعث تعلیمی ادارے بند ہونے اور اساتذہ کے چھٹیوں پر ہونے کے باوجود بعض سکولوں سے مختلف تدریسی و انتظامی سرگرمیوں کی رپورٹس مرتب کرکے جمع کرانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جن میں ڈینگی سے متعلق رپورٹنگ بھی شامل ہے۔
ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ عملہ مبینہ طور پر دفتر یا گھر بیٹھ کر ایڈٹ شدہ تصاویر اور دیگر مواد کے ذریعے ریکارڈ مکمل کرکے پی ایس ایس پی حکام کو ارسال کرتا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
مزید برآں، بعض ذرائع کی جانب سے یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعدد سکولوں میں کم تنخواہوں پر غیر تجربہ کار اساتذہ کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ طلبہ کے مبینہ طور پر جعلی یا غیر حقیقی ریکارڈ تیار کیے گئے ہیں، جس کی بنیاد پر حکومت سے لاکھوں روپے ماہانہ وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان الزامات کی بھی متعلقہ حکام یا این جی او کی جانب سے تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
شہریوں نے محکمہ تعلیم پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایس ایس پی کے تحت چلنے والے سکولوں کے ریکارڈ، طلبہ کی تعداد، اساتذہ کی تعلیمی قابلیت و حاضری، سرکاری فنڈز کے استعمال اور این جی اوز کی کارکردگی کا مکمل اور شفاف آڈٹ کرایا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی ادارے یا فرد کی جانب سے جعلی ڈیٹا، ریکارڈ میں ہیر پھیر یا سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور تعلیمی معیار پر سمجھوتہ کرنے والے عناصر سے سرکاری سکولوں کا انتظام واپس لیا جائے۔



