بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے غریب عوام کا بھر کس نکال کر رکھ دیا، شہری و سماجی حلقے

جہلم: مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ عوام پر بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی آڑ میں شامل کئے جانے والا نیا مالی بوجھ ختم کیا جائے، غریب عوام پہلے ہی بجلی گیس کے بے تحاشہ اضافی ٹیکسوں سے تنگ ہیں اوپر سے خود ساختہ ٹیکسز نے محنت کشوں سمیت عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار جہلم شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی اور کارروباری تنظیموں کے عمائدین نے وفاقی وزیر پانی و بجلی سردار اویس لغاری سے مطالبہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماہ جولائی میں آنے والے بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے غریب عوام کا بھر کس نکال کر رکھ دیاہے ۔
انہوں نے کہا کہ بیشتر صارفین نے مالی مجبوری کی وجہ سے بل جمع نہیں کروائے جس پر آئیسکو ملازمین دھونس دھاندلی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے صارفین کے میٹرا تار نے کی دھمکیاں دیتے رہے جبکہ متعدد غریب صارفین ہاتھوں میں بجلی کے بلز پکڑے گلی محلوں میں اپنے عزیز واقارب سے قرض مانگتے دکھائی دیئے تاکہ ان کے میٹر کٹنے سے بچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی برداشت سے زیادہ بجلی کے نرخ بڑھانے سمیت بلوں میں ٹیکس لگانا حکمرانوں کی طرف سے عوام پرظلم کے مترادف ہے ، حکمرانوں کو چاہئے کہ سرکاری اداروں میں نصب کئے گئے ایئر کنڈیشن اور سرکاری افسران کے زیر استعمال گاڑیاں فروخت کرکے رقوم سرکاری خزانے میں جمع کروائی جائے تاکہ غریب ملک کے غریب عوام سرکاری افسران و حکمرانوں کی عیاشیوں کا خمیازہ بھگتنے سے بچ سکیں ۔



