دریائے جہلم کا حفاظتی بند شدید خطرے میں، بھاری ٹریکٹر ٹرالیوں کی آمدورفت سے منصوبہ تباہی کے دہانے پر

جہلم شہر کو ممکنہ سیلابی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جانے والا حفاظتی بند انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور قانون شکن ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیورز کی لاپرواہی کے باعث شدید نقصان سے دوچار ہو رہا ہے۔ حفاظتی بند پر مسلسل بھاری ٹریکٹر ٹرالیاں گزارے جانے سے اس کے مختلف حصے متاثر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

جہلم شہر کے اندر تعمیراتی سامان کی ترسیل کے لیے ٹریکٹر ٹرالیوں کے ڈرائیورز بجری، خاکہ، روڑی، کریش اور دیگر بھاری میٹریل حفاظتی بند کے اوپر سے لے جا رہے ہیں۔ اس بھاری آمدورفت کے باعث حفاظتی بند کی بنیادیں کئی مقامات پر زمین میں دھنسنے لگی ہیں، جو کسی بڑے حادثے یا ممکنہ سیلابی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بارشوں اور سیلاب کی صورت میں شہر کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ انہار کی عدم دلچسپی اور مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث حفاظتی بند پر جگہ جگہ غیر قانونی راستے بنا لیے گئے ہیں، جنہیں مقامی مکین اور ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور بلا روک ٹوک استعمال کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ شہر کے لاکھوں مکینوں کی جان و مال کو بھی شدید خطرے میں ڈال چکی ہے۔

شہریوں اور سماجی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم طارق عزیز سندھو، ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن، ایکسین محکمہ انہار اور ڈی ایس پی ٹریفک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حفاظتی بند پر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت بند کرائی جائے، قانون شکن ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیورز کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور محکمہ انہار کو حفاظتی بند کی حفاظت اور فوری مرمت کا پابند بنایا جائے۔

شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں نے بروقت نوٹس نہ لیا تو کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button