ضلع جہلم اور گردونواح میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

جہلم:ملک بھر کی طرح ضلع جہلم اور گردونواح میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جلوسوں، مجالس اوردیگر تقریبات میں علمائے کرام نے سید الشہداء حضرات امام حسین ؑ اور ان کے رفقا کو خراج تحسین پیش کیا گیا، سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، عزادرانِ حسین سینہ کوبی اور زنجیر زنی کرتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم میں یوم عاشور مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا۔ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؑاور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شبیہہ علم اور تعزیئے بھی نکالے گئے۔ عزادارین حسین زنجیر زنی اور سینہ کوبی کرتے رہے۔ مساجد میں شہدائے کربلا کی یاد میں محافلوں کا انعقاد کیا گیا۔

ضلع بھر میں یوم عاشور کے 31 چھوٹے بڑے جلوس جبکہ 48مجالس منعقد کی گئیں۔ جہلم شہر سے چار بڑے جلوس برآمد ہوئے۔ پہلا جلوس دربارر سخی شاہ بھور، دوسرا جلوس شمالی محلہ، تیسرا جلوس بیٹھک شیخ مراد بخش جبکہ چوتھا جلوس امام بارگاہ جعفریہ سے برآمد ہو کر بیٹھک شیخ مراد بخش پہنچا اور چاروں جلوس مرکزی جلوس کی صورت اختیار کر گئے ۔

مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا چوک اہلحدیث پہنچا جہاں نمازمغربین ادا کی گئی۔ نماز مغربین کی ادائیگی کے بعد مرکزی جلوس سول لائن روڈ پر پہنچا جہاں علماء و زاکرین نے شہدائے کربلا پر ہونے والے مظالم پر روشنی ڈالی اس کے بعد مرکزی جلوس سول لائن روڈ سے ہوتا ہوا بیعت العباس بلال ٹاؤن میں اختتام پذیر ہوگیا۔

اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، پولیس، مقامی امام بارگاہوں کی اپنی سکیورٹی، خفیہ ادارے، ایجنسیوں نے سکیورٹی کے نہایت سخت اقدامات کیے ہوئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی، ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ، ڈی ایس پیز، اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ایچ اوز، پولیس سٹی چوکی انچارج ہمراہ نفری،امام بارگاہوں اور مساجد میں اپنے فرائض منصبی اداکرنے کے ساتھ ساتھ انتظامات کا جائزہ لیتے رہے۔

جلوسوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی گئی، ضلع بھر کے تمام جلوس اپنے مقررہ جگہوں پر اختتام پذیر ہوئے، شام کے بعد امام بارگاہوں میں شام غریباں کی تقریبات منعقد کی گئی جبکہ علماء کرام اور ذاکرین نے شہادت حسین کے فلسفہ پر روشنی ڈالی،حضرت امام حسین ؑ اور انکے رفقاجانثاروں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاگیا۔

جلوسوں کے راستوں میں سبیلیں لگائی گئی جبکہ عزاداروں کو زنجیر زنی کرنے کے فوراً بعد طبی امداد کیلئے ریسکیو 1122 کا مکمل سٹاف، سماجی تنظیموں کی ٹیمیں اور مقامی ڈاکٹرز و دیگر عملہ اپنے فرائض ادا کرتا رہا۔ چند ایک مقامات کو حساس ہونے کی وجہ سے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے، جلوسوں کے مقامات پر سی سی ٹی کیمرے نصب کیے گئے تھے، پارکنگ کا انتظامات مجالس اور ان کے روٹس سے کافی دور تھا تا کہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔

ادھریوم عاشور کے دن تحصیل دینہ ضلع جہلم کے تاریخی قلعہ روہتاس میں چار سو سالہ قدیمی عزاداری جلوس انعقاد پذیر ہوتا ہے۔ اس جلوس کی اہم بات یہ ہے کہ شبیہ روزہ حضرت عباس علمدار کی تیاری میں اہلسنت اور شیعہ مسلک کے افراد ایک ساتھ حصہ لیتے ہیں اور جلوس میں شرکت بھی ایک ساتھ کرتے ہیں۔

قلعہ روہتاس میں چار جلوس نکالے جاتے ہیں اور جلوس کے آگے اونٹ پر سوار دف بردار نقارا بجاتے ہیں یہ تمام جلوس قلعہ کے مرکزی دروازے پر موجود مزار سید شاہ کمال چشتی پر اختتام پذیر ہوتے ہیں اور اختتامی دعا کرائی جاتی ہے۔ قلعہ روہتاس جہاں خود ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے وہاں یوم آشورہ کی عزاداری چار صدیاں پرانی ہے اور مسلکی بھائی چارہ کی عظیم مثال بھی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button