کھیوڑہ میں پینے کا پانی نایاب، محکمہ ریلوے کا پانی کی لائن کراس کرنے سے انکار، شہری سراپا احتجاج

کھیوڑہ: ہزار نفوس پر مشتمل آبادی والے شہر کھیوڑہ کیلئےپبلک ہیلتھ کی طرف سے بچھائی گئی پینے کے پانی کی پائپ لائن کو اکھاڑنے کے لئے محکمہ ریلوے کے ڈی ایس پی لیڈی پولیس ریلوے افسران اور ان کا عملہ کھیوڑہ پہنچنے پر ڈپو بازار کھوکھر برادری پراچہ برادری اہل شہر اور خواتین پر امن احتجاج کرتے ہوئے ان کے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہو گئے۔
احتجاج کے دوران شدید گرمی کے باعث مہر ذوالفقار اور ایک خاتون بے ہوش ہو گئی جن کو فوری سول ہسپتال پہنچایا گیا
ڈی ایس پی ریلوے اور افسران کا موقف تھا کہ این او سی کے بغیر پائپ لائن گزاری گئی ہے، عوام کا یہ موقف تھا کہ ہمیں پینے کا پانی چاہیے، ایک سال سے پانی نہیں ہے 3ہزار روپے کاٹینک ڈلوا رہےہیں۔ پنجاب حکومت نے 7کروڑ روپے کی لاگت سے یہ پائپ لائن بچھائی اس کا این او سی پبلک ہیلتھ والوں یا ٹھیکیدار کو لینا چاہیے تھا مقامی آبادی کا لینا نہیں بنتا۔
اس پر کھیوڑہ چوکی انچارج ایس ایچ او پنڈدادنخان اورڈی ایس پی پنڈدادنخان بھی موقع پر پہنچ گئے، ڈی ایس پی پنڈدادنخان نے تمام حالات اور واقعات کو دیکھتے ہوئے ڈی ایس پی ریلوئے سےمذاکرات کئے ان دونوں کی باہمی مشاورت سے چند روز کا وقت لیا گیا۔
محکمہ ریلوے کے افسران کا موقف تھا کہ پبلک ہیلتھ والوں نے این او سی نہیں لیا تو ہم ایکسئین اور ایس ڈی او کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔
اس موقع پر پبلک ہیلتھ کے افسران اسسٹنٹ کمشنر اور مقامی بلدیہ کا عملہ کہیں نظر نہیں آیا۔ شہر کے ایم پی اے اور ایم این اے کی بھی مدد نہیں پہنچی۔
کھیوڑہ سے جہلم جانے والے وفد نے ایم این اے چوہدری فرخ الطاف سے ملاقات کی اور ان کو یقین دلایا کہ ڈی ایس ریلوے سے بات ہوگئی ہے۔
اگر بات ہوتی تو محکمہ ریلوے تمام سازوسامان کے ساتھ پائپ اکھاڑنے کے لئے نہ آتی یہ جنگ پبلک ہیلتھ اور محکمہ ریلوے کی ہے عوام کو اس میں ذلیل نہ کیا جائے اہل کھیوڑہ ڈی ایس پی پنڈدادنخان کے بے حد مشکور ہیں جنھوں نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے انکی ڈھال بن کر کھڑا ہوگئے۔
کھیوڑہ کی سینکڑوں عوام وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔



