دریائے جہلم پل سے راولپنڈی تک جی ٹی روڈ انتہائی خستہ حالی کا شکار

جہلم جی ٹی روڈ کی خستہ حالی پر محکمہ این ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں کا نوٹس نہ لینا لمحہ فکریہ ہے، جی ٹی روڈ اس وقت کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے جگہ جگہ گہرے گڑے پڑ چکے ہیں۔
ٹریفک کی روانی اور لوڈ گاڑیوں سے مسائل ا ور ذرا سی بارش ہونے کے بعد جی ٹی روڈ تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہے، دریائے جہلم پل سے راولپنڈی تک جی ٹی روڈ انتہائی خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے۔
اس حوالے سے جی ٹی روڈ پر روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والوں سے ٹیکسز کی مد میں روزانہ لاکھوں روپے وصول کرتی ہے ،لیکن جی ٹی روڈ کی تعمیر و مرمت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے شہریوں کی قیمتی گاڑیاں کھٹارہ بنتی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکمران افسران کو لگژری گاڑیاں مہیا کر رہے ہیں جبکہ عوام سے گاڑیوں کی سہولت چھینے کے لیے سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبے بند کر دیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان ،چیئرمین این ایچ اے سے جہلم تا راولپنڈی جی ٹی روڈ کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔



