جہلم میں عیدالفطر کی آمد کے قریب آتے ہی مرکزی بازاروں میں رش، ٹریفک جام معمول بن گیا

جہلم: عیدالفطر کی آمد کے قریب آتے ہی شہر کے مرکزی بازاروں میں خریداروں کا رش غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔

جہلم شہر بالخصوص چوک گنبد والی مسجد، اہلحدیث چوک، دلہن بازار، کناری بازار اور مین بازار میں صورتحال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، جہاں پیدل چلنا بھی دشوار ہو چکا ہے جبکہ ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدورفت کے باعث ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ دوپہر کے بعد اور افطار سے قبل بازاروں میں شدید ہجوم کے باعث نہ صرف خریداری میں مشکلات پیش آتی ہیں بلکہ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو شدید دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریڑھی بانوں اور عارضی اسٹالز کی بھرمار کے باعث سڑکیں سکڑ کر تنگ گلیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کے لیے گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔

خصوصی طور پر سکول و کالج کی چھٹی کے وقت والدین کی بڑی تعداد بچوں کو لینے کے لیے پہنچتی ہے، جس سے بازاروں اور ملحقہ سڑکوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ عید سے قبل کاروبار کے یہی دن اہم ہوتے ہیں، تاہم وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ بہتر انتظامات کے ذریعے رش اور ٹریفک مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں کے داخلی و خارجی راستوں پر بیریئرز نصب کیے جائیں، غیر ضروری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے اور ریڑھی بانوں کے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے جائیں تاکہ خریداروں کو سہولت میسر آ سکے۔

عوامی حلقوں نے میر رضا اوزگن اور شفیق احمد چوہدری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شہریوں کو محفوظ اور منظم ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ رد نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button