ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی کا انکشاف

جہلم: ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں ناظرہ کے 77 اور ترجمہ کلاس کے 7 اسیران موجود ہیں جبکہ تمام اسیران کو "نفرت جرم سے ہے، انسان کے نہیں” کا درس دے کر انہیں معاشرے کا ایک معزز شہری بن کر جینے کا سبق دیا جاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل جہلم سید حسن مجتبیٰ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں 416 اسیران کی گنجائش ہے جبکہ یہاں 978 اسیران موجود ہیں۔ اسی طرح سزائے موت کے 47 اسیران ڈیتھ سیل میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سزائے موت کے 40 قیدیوں کی لاہور ہائی کورٹ میں اپیلیں زیر سماعت ہیں اور وہ پانچ سال سے اپیلوں کی سماعت کا انتظار کر رہے ہیں۔ جبکہ 7 اسیران کی اپیلیں سپریم کورٹ میں 10 سال سے زیر التوا ہیں۔ منشیات فروشی اور استعمال کرنے والے اسیران 275 ہیں جن میں 4 خواتین، 271 منشیات فروش اور استعمال کرنے والے اسیران ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل جہلم سید حسن مجتبیٰ نے کہا کہ منشیات پینے والوں کو منشیات چھوڑنے کی طرف راغب کرنے کے لیے ان کا علاج کر کے انہیں سیکیورٹی وارڈ سی میں بھجوا دیا جاتا ہے جس سے ان میں بہتری کے آثار نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چھ ماہ میں قیدیوں کو ملنے کے لیے آنے والے لواحقین سے قیدیوں کو دی جانے والی منشیات برآمد کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کروائے ہیں اور فوری گرفتار کروایا گیا ہے۔ اسی طرح جو اسیران عدالتوں میں جاتے ہیں واپسی پر 78 اسیران سے منشیات برآمد ہوئی ہے جس پر انہیں قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔
سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل جہلم نے کہا کہ جیل کی انتظار گاہ میں یوٹیلیٹی سٹور موجود ہے جس میں حکومت کی طرف سے مقررہ نرخوں پر لواحقین خریداری کرتے ہیں جبکہ قیدیوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے مخیر حضرات سے جیل کی حدود میں چار بورنگ پمپ لگوا کر پینے کے صاف پانی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ جیل جہلم کے ڈاکٹر محمد عمر شبیر نے بتایا کہ جیل کے ہسپتال میں تمام ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں اور قیدیوں کو ہر سطح پر صحت کی سہولیات فراہم ہو رہی ہیں جبکہ جیل کے ہسپتال کو محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے زیر نگرانی کر دیا گیا ہے اور حکومت پنجاب نے اسیران کو صحتِ عامہ کی سہولیات بروقت دینے کے لیے ایک شیڈول تشکیل دیا ہے جس کے تحت ماہر امراض ڈاکٹر اس شیڈول کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل جہلم کا دورہ کر کے اسیران کو چیک کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں طبی سہولیات اور ادویات فراہم کرتے ہیں۔



