قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں کمی

وزارت خزانہ نے قومی بچت اسکیموں کے شرح منافع میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں مختلف بچت اسکیموں پر ملنے والے منافع میں نمایاں کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔

نئی جاری کردہ پالیسی کے تحت سیونگ، اسپیشل سیونگ اکاؤنٹس اور ڈیفنس سیونگ اسکیمز پر دیے جانے والے منافع میں کمی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریگولر انکم سرٹیفکیٹ اور بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ پر بھی پہلے کی نسبت کم منافع فراہم کیا جائے گا۔ یہ اقدام حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھنا اور بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنا ہے۔

وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس اور شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹس پر بھی منافع کی شرح میں کمی کی گئی ہے۔ پنشنرز اور شہداء فیملیز کے لیے پہلے 15 اعشاریہ 36 فیصد کی شرح سے منافع دیا جا رہا تھا، جسے اب کم کر کے 14 اعشاریہ 16 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح، بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ کی شرح منافع میں بھی کمی کی گئی ہے، جو اب 14 اعشاریہ 16 فیصد سالانہ ہوگی۔ ریگولر انکم سرٹیفکیٹ کے لیے بھی منافع کی شرح 14 اعشاریہ 52 فیصد سے کم ہو کر 12 اعشاریہ 72 فیصد کر دی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ان نئی شرحوں کا اطلاق 25 ستمبر 2024 سے ہوگا۔ اس فیصلے سے وہ افراد متاثر ہوں گے جو مختلف قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک میں مالیاتی دباؤ کو کم کرنا اور افراط زر کو قابو میں رکھنا ہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کے لیے یہ اقدام مایوس کن ہو سکتا ہے کیونکہ بچت اسکیموں سے منافع میں کمی ان کی آمدنی پر اثر ڈال سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے سے معیشت میں استحکام پیدا ہوگا، مگر سرمایہ کاروں کو نئے حالات کے مطابق اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہوگی۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button