ضلع جہلم میں اتائیوں کے ڈیرے، غیر قانونی اسپتال اور زچہ بچہ سینٹرز قائم، محکمہ صحت خاموش

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں اتائیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، جہاں انہوں نے اپنے اسپتال، آپریشن تھیٹرز، میٹرنٹی اور زچہ بچہ سینٹرز قائم کر رکھے ہیں۔ ان غیر قانونی مراکز پر آئے روز شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں اتائی ڈاکٹروں نے کھلے عام کلینکس قائم کر رکھے ہیں۔ مقامی مکینوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ صحت کے ذمہ داران کی عدم دلچسپی اور مبینہ چشم پوشی کے باعث بااثر افراد نے گلی محلوں اور دیہاتوں میں اپنے غیر قانونی کلینکس اور اسپتال بنا لیے ہیں۔
شہریوں نے بتایا کہ ناتجربہ کار دائیوں اور اتائی ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث سینکڑوں خواتین بانجھ پن سمیت مختلف پیچیدہ امراض کا شکار ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جب بھی محکمہ صحت کے افسران دفتر سے نکلتے ہیں تو اتائیوں کے واٹس ایپ گروپس میں فوری اطلاع پہنچا دی جاتی ہے، جس پر یہ لوگ اپنے کلینک اور دکانیں بند کر کے یا غائب ہو کر بچ نکلتے ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سیکرٹری ہیلتھ اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے ذمہ داران سے فوری نوٹس لینے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خواتین اور شہریوں کو بیماریوں اور اتائی ڈاکٹروں کے ہاتھوں ہونے والی خطرناک صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔



