پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سبزیوں، پھلوں سمیت اشیاء ضروریہ کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام

جہلم: بھاری تنخواہیں ٹھنڈی گاڑیاں اور مراعات لینے والے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سبزیوں، پھلوں سمیت اشیاء ضروریہ کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام، دکانداروں کی لوٹ مار کا سلسلہ عروج پکڑنے لگا۔
ضلع جہلم میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے شہریوں کے مالی مسائل سے لا تعلقی اختیار کر لی، سبزی فروشوں سے لیکر گوشت فروش، پھل فروشوں تک اپنی اپنی من پسند کے نرخ وصول کر نے میں مصروف ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ضلعی افسران کو مہنگائی کنٹرول کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔
اس طرح جہلم ضلع بھر میں تین درجن کے قریب پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نیلی بتی والی گاڑیاں لیکر سڑکوں پر گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں،لیکن با اثر گراں فروشوں کے خلاف کارروائیاں کرنے سے گریزاں ہیں،پنجاب حکومت کی طرف سے چھوٹے گوشت کی فی کلو قیمت 1600روپے جبکہ بڑے گوشت کی قیمت 800 روپے مقرر کر رکھی ہے۔ قصابوں نے مضر صحت چھوٹے گوشت کا نرخ 2200روپے جبکہ گائے کا گوشت 1000روپے کلو میں فروخت شروع کر رکھی ہے۔
پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جس کیوجہ سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے، اسی طرح سبزیوں کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں مگر انکو کوئی پوچھنے والا نہیں، اس کے برعکس پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس چند افراد جن کا اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کے ساتھ کوئی لین دین نہ ہے کو بلاکر کاغذی کارروائی اور فوٹو سیشن لر لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں گراں فروشی کے مرتکب دکانداروں اور دکانداروں کی سرپرستی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ اشیاء ضروریہ سرکاری نرخ ناموں پر عام آدمی کی پہنچ میں آسکیں۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



