سر "سادھو رام” ڈومیلی

گزشتہ روز اپنے قصبہ ڈومیلی میں پہاڑ کے دامن میں موجود ہندو مذہب کی ایک قدیمی اور تاریخی یادگار "سر سادھو رام” سرِراہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اگر آپ کا تھوڑا بہت شغف تاریخ کے اوراق پڑھنے کا ہو تو سر سادھو رام کے مختصر، دلچسپ اور تاریخی نوعیت کے پسِ منظر کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔

ہندوستان کے قدیم ترین مذہب کے بارے میں مؤرخین کے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ براہمنی دور کو عام طور پر ہندوستان کا قدیم ترین دور کہا جاتا ہے جبکہ یہ بھی مشہور ہے کہ ویدک دور قدیم ہندوستانی تہذیب کا ایک دور ہے جب ویدوں کی تشکیل ہوئی تھی بہرحال اس تہذیب کے متعلق مؤرخین کی مختلف آراء ہیں البتہ حتمی طور پر اس دور کا تعین کرنا شاید ناممکن ہو۔

ہندوؤں میں رہبانیت یعنی تارک الدنیا ہونے کا فلسفہ اسی ویدک دور کی یادگار ہے۔ یہ سلسلہ دیگر چند ایک مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے۔ براہمنی مذہب جسے عرف عام میں ہندو دھرم کہا جاتا ہے، میں جوگ، سنیاس اور سادھو سنتوں کا بڑا احترام کیا جاتا ہے۔

مؤرخین کے مطابق ہمارے ضلع جہلم کا مشہور اور تاریخی مقام ٹیلہ جوگیاں بھی جوگیوں اور سنیاسیوں کی تربیت گاہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یہاں نامی گرامی جوگیوں کے گُرو ہوئے ہیں، کہا جاتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت ٹیلہ جوگیاں سے ہجرت کرنے والے آخری گرو کلا ناتھ کے بعد یہ سلسلہ یہاں ختم ہوگیا جبکہ اس سے قبل بیشتر گُرو اور جوگی یہاں بسیرا کر چکے ہیں۔

ہندو مت میں سادھو ایک تارک الدنیا، محوِ سفر درویش، فقیر منش اور گھومتا پھرتا فقیر ہوتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے تاریخی قصبہ ڈومیلی میں بھی پہاڑ کے دامن میں ایک تالاب اور سمادھی اسی دور کی یادگار ہے جسے ”سر سادھو رام” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ "سر” تالاب کو کہا جاتا ہے جبکہ "رام” اس سادھو کا نام تھا جس کی یہ سمادھی ہے۔ یہ بھی تاریخی صدری حوالہ ہے کہ 1947ء سے قبل یہاں ایک بڑا میلہ لگا کرتا تھا۔ سادھو رام کا تعلق بھی ٹیلہ جوگیاں کی کڑی سے جوڑا جاتا ہے۔

سادھو رام کی سمادھی اور تالاب کے کنارے کبھی بڑے بڑے برگد کے درخت ہوا کرتے تھے جن میں سے اب صرف ایک برگد ماضی کی نا جانے کتنی کہانیاں اپنے اندر سمیٹے کھڑا ہے۔ جہلم کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اور آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے حضرات کیلئے یہ جگہ جہاں قابلِ دید ہے وہاں اسے محفوظ رکھنے کیلئے دعوتِ فکر بھی ہے ایسا نہ ہو کہ کہیں دیر ہو جائے اور ”سر سادھو رام” بھی ڈومیلی میں موجود ڈھیر ساری مسمار شدہ باقیات کی طرح ماضی کا قصہ بن کر رہ جائے اور "اے بسا آرزو کہ خاک شدہ” کا مصداق بن جائے۔

لکھاری قاری محمد نعمان فاروق جامعہ صدیقیہ قادریہ کے مدیر اور مرکزی جامع مسجد مدنی محلہ شمالی ڈومیلی، ضلع جہلم کے خطیب ہیں.

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button