راستے بند ہونے سے دریائے جہلم پل پر دو مریض ایمبولینس میں ہی دم توڑ گئے

جہلم/ سرائےعالمگیر: پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی ہونے کے سبب دریائے جہلم پل پر دو مریض ایمبولینس میں ہی دم توڑ گئے۔

تفصیلات کے مطابق سرائے عالمگیر سے ایک مریض کو ایمرجنسی کی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم اور دوسرے مریض کو راولپنڈی ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا لیکن مبینہ طور پر ایمبولینس کو جہلم پل سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ راستہ بند ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال بروقت نہ پہنچایا جا سکا، جس کی وجہ سے دونوں مریض ایمبولینس ہی میں جاں بحق ہو گئے، اس کے بعد متوفی کے لواحقین کو میت کو بھی اٹھا کر پیدل ہی روانہ ہونا پڑا، جس کی فوٹیج منظرعام پر آ گئی ہے۔

جہلم میں پرانے پل پر راستے بند ہونے کے باعث مریض ہسپتال نہ پہنچ سکے، لواحقین میت کو اٹھائے ہوئے پیدل چلتے رہے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے ہے متوفی کے لواحقین میت اٹھائے پیدل چل رہے ہیں۔ فوت ہونے والے دونوں مریضوں کو راستوں کی بندش کے باعث ہسپتال نہ پہنچایا جا سکا۔

یاد رہے کہ دریائے جہلم کے دونوں پل کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، موٹر وے ایم 2 کو لِلہ انٹر چینج سے کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے، منگلا پل کو بھی بند کیا گیا ہے۔ پنڈدادن خان جہلم روڈ کو مصری موڑ کے مقام پر بند کیا گیا ہے۔ شاہراہیں بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں جب کہ ضلع بھر کی شاہراہوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button