سماجی کارکنان کے وفد کی سید ذیشان حیدر ایڈووکیٹ سے ملاقات، علاقائی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال

پڑی درویزہ: موجودہ حکومت کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ پڑی درویزہ کے سماجی کارکنان کے ایک وفد نے سابق چیئرمین یونین کونسل اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سید ذیشان حیدر ایڈووکیٹ سے ان کی رہائش گاہ پھلڑے سیداں میں خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات اور انتظامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد میں چیف وارنٹ آفیسر (ر) محمد طفیل مغل، خلیق انجم اعوان ایڈووکیٹ، سابق ہیڈ ماسٹر صغیر احمد، شفقت اقبال، ملک محمد سلیم، ملک محمد شفیق، ملک پرویز اختر، حسنات علی، مرزا وحید سرور، محمد دانش منظور، ماسٹر مظہر حسین اور محمد اشتیاق جنجوعہ شامل تھے۔
وفد کے شرکاء مختلف سیاسی اور فکری حلقوں سے تعلق رکھتے تھے تاہم دو اہم نکات پر مکمل اتفاق پایا گیا۔ پہلا مطالبہ پڑی درویزہ میں یونین کونسل کے قیام سے متعلق تھا۔ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ 1964ء میں سابق ایس پی راجہ عنایت اللہ خان (ستارہ قائداعظم) کی کوششوں سے جغرافیائی اور تجارتی مرکزیت کی بنیاد پر یونین کونسل پڑی درویزہ میں قائم کیے جانے کی تجویز سامنے آئی تھی، تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
اس موقع پر سید ذیشان حیدر ایڈووکیٹ نے پڑی درویزہ کی تاریخی، جغرافیائی اور تجارتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں نئی یونین کونسل کے قیام کی صورت میں پڑی درویزہ کو ترجیح دینے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔
وفد نے علاقے کی گلیوں کی خستہ حالی اور تعمیر و مرمت کے مسائل بھی اجاگر کیے، جس پر سید ذیشان حیدر نے کہا کہ وہ رکن قومی اسمبلی و وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے تعاون سے علاقے کی محرومیوں کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں چار اہم گلیوں کی تعمیر اور پختگی کو ترجیح دی جائے گی۔
سماجی وفد نے اس موقع پر مقامی صحافی کی جانب سے پڑی درویزہ کی ترقیاتی محرومیوں کے حوالے سے لکھے گئے کھلے خط کا بھی حوالہ دیا اور مطالبہ کیا کہ علاقے کی دیرینہ ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔
ملاقات کے اختتام پر وفد نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر علاقے کی بنیادی محرومیوں کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں پر عملی پیش رفت ہوئی تو عوام آئندہ بھی ایسے نمائندوں کا بھرپور ساتھ دیں گے جو علاقائی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔



