سی ای ایجو کیشن ضلع جہلم نے تدریسی و غیر تدریسی عملے کی عارضی تعیناتیوں کو منسوخ کر دیا

جہلم: چند دن قبل سی ای ایجو کیشن ضلع جہلم رانا جاوید اختر نے تحریری حکم نامہ جاری کیا اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تمام قسم کی عارضی طور پر منسلک تعیناتیوں کو فوری طور پر منسوخ کر دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی اصل پوسٹنگ کی جگہ پر اپنی ڈیوٹی جوائن کریں۔ متعلقہ ڈی ڈی اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ملازمین کے خلاف کارروائیاں شروع کریں جو 3 دن کے اندر اپنی اصل جگہ تعیناتی کی اطلاع نہ دیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ ان احکامات کے بعد امید کی جانے لگی تھی کہ اگر ان احکامات پر عمل ہوا تو یقیناً بچوں کی پڑھائی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان کو متعلقہ مضامین کے اساتذہ دستیاب ہو جائیں گے۔ مگر سیاسی سفارش رکھنے والوں نے یہ آرڈر بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے ہیں جو بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔ اپ گریڈیشن کس کام کی جب پڑھانے والا ہی کوئی نہ ہو۔
سکولوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کے والدین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب بھی سکول انتظامیہ سے پوچھا جاتا ہے کہ اس اسکول میں سائنس پڑھانے والے ٹیچر کو عارضی ڈیوٹی پر کیوں بھیجا گیا تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر آفس سے کال آگئی تھی یا کہا جاتا ہے کہ یہ سیاسی سفارش پر عارضی طور پر تبدیل کئے گئے ہیں۔
والدین نے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) سمیع اللہ فاروق اورمقامی سیاست دانوں سے مطالبہ کیاہے کہ مطلوبہ اساتذہ کو ان کی جائے تقرری پر واپس تعینات کیا جائے تاکہ طلباء و طالبات سالانہ امتحانات میں اچھے نمبروں کے پاس ہوسکیں۔



