پنجاب حکومت نے کم از کم اجرت 40 ہزار مقرر کر دی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا اعلان

جہلم: حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے محنت کشوں کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے مقرر کر دی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق 26 ورکنگ دنوں اور روزانہ 8 گھنٹے کام کے عوض مزدور کو یومیہ 1538 روپے تنخواہ دی جائے گی۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نئی اجرت پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزدور تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں اجرت میں اضافہ محنت کش طبقے کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر سختی سے عمل کیا گیا تو ہزاروں گھرانوں کی مشکلات میں کمی واقع ہوگی۔

دوسری جانب کاروباری و صنعتی حلقوں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق بجلی، ایندھن اور خام مال کی قیمتوں میں پہلے ہی ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، ایسے میں اچانک اجرت بڑھنے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صنعتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایک متوازن حکمتِ عملی بنائے تاکہ مزدور اور کاروباری دونوں طبقات متاثر نہ ہوں۔ عوامی حلقوں نے بھی زور دیا ہے کہ اعلان پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button