یورپ میں قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع نے روایتی ایندھن پر سبقت حاصل کرلی

یورپ میں پون چکی اور شمسی توانائی نے پہلی بار فاسل ایندھن سے بنائی جانے والی توانائی پر سبقت حاصل کرلی ہے۔

انرجی تھنک ٹینک ایمبر کے مطابق 2024 کے ابتدائی 6 ماہ میں ونڈ ٹربائن اور شمسی پینلز نے یورپی یونین کی مجموعی بجلی کا 30 فی صد حصہ بنایا، جبکہ فاسل ایندھن سے بننے والی توانائی کی مقدار میں 27 فی صد تک کمی واقع ہوئی۔

قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی رکن ممالک کی طرف سے آب و ہوا کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے آلودگی پھیلانے والے بجلی کے ذرائع سے دوری اختیار کرنے کی جانب بڑا قدم ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 کے پہلے ششماہی میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باوجود فاسل فیول سے توانائی کی پیداوار اب تک کی سب سے کم سطح 343 ٹیرا واٹ آور تک گر گئی۔ یہ مقدار 2022 میں 500 ٹیرا واٹ آور سے زیادہ تھی۔

ایمبر کے ڈیٹا اینلسٹ کرس روزلوو کا کہنا تھا کہ سال کا پہلا ششماہی فاسل ایندھن کا توانائی کے سیکٹر میں کم ہوتا کردار اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے بڑھتے وجود کو دکھاتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button