کھیل کے میدان، ذہنی سکون اور کھویا ہوا بچپن

ہمارے معاشرے میں ایک بڑا المیہ تیزی سے جنم لے رہا ہے کہ نئی آبادیوں اور ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں بچوں کے کھیلنے کے لیے علیحدہ میدان یا پارکس موجود ہی نہیں ہوتے۔ وہ زمینیں جہاں کبھی شام ڈھلتے ہی کرکٹ، فٹبال اور لُکن میٹی کے شور سے گونجتی تھیں، آج بلند و بالا عمارتوں، کمرشل پلازوں اور کنکریٹ کے جنگل میں دفن ہو گئی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہمارا بچپن، جو کھیل اور قہقہوں کی چہکار سے جڑا تھا، آہستہ آہستہ اپنی خوشبو کھوتا جا رہا ہے۔
چھوٹے بچے، جنہیں جسمانی سرگرمی اور کھیل کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، ان کے اسکولوں کا رقبہ عموماً پانچ مرلے سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس محدود رقبے میں کلاس رومز تو بن جاتے ہیں لیکن کھیل کے میدان کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر پرائیوٹ اسکولوں کے طلبہ کھیل کود جیسی بنیادی ضرورت سے ناآشنا رہتے ہیں۔ ان کے دن صرف کتابوں اور امتحانوں کی بھاری ذمہ داریوں میں گزر جاتے ہیں۔
یہ محرومی صرف وقت گزاری یا تفریح کی کمی نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت پر گہرے منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ کھیل وہ درسگاہ ہے جو بچے کو برداشت، تعاون، جیت اور ہار کے اصول سکھاتی ہے۔ یہ میدان وہ جگہ ہیں جہاں بچہ گر کر اٹھنا، ہار کر سنبھلنا اور ٹیم ورک کی اہمیت سمجھتا ہے۔ مگر جب کھیلنے کے مواقع ہی ختم ہو جائیں تو بچے ذہنی دباؤ، تنہائی، چڑچڑاپن اور کم اعتمادی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ جدید تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ کھیل سے محروم بچہ بعد میں شخصیت کی کئی کمزوریوں کا سامنا کرتا ہے۔
یہی نہیں، کھیل کے میدانوں کی کمی پاکستان میں نئے ٹیلنٹ کے فقدان کی بڑی وجہ بھی ہے۔ آج ہم کرکٹ، ہاکی یا فٹبال میں نئے نام کم دیکھتے ہیں کیونکہ گلی محلے کا وہ ماحول باقی ہی نہیں رہا جہاں ایک عام بچہ اپنے خوابوں کو پر لگا کر آگے بڑھ سکتا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں پاکستان کھیلوں کی دنیا میں مزید پیچھے رہ جائے گا۔
بدقسمتی سے، ہماری ترجیحات میں تعلیم اور صحت کی طرح کھیل بھی کبھی شامل نہیں رہا۔ سرکاری سطح پر اس جانب توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوسائٹیاں اور بلڈرز صرف گھروں اور پلازوں کے نقشے بناتے ہیں، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ان گھروں میں رہنے والے بچوں کو بھی کھلی فضا اور کھیلنے کے لیے محفوظ ماحول درکار ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو ذہنی طور پر تھکی ہوئی، جسمانی طور پر کمزور اور معاشرتی طور پر غیر متوازن ہوگی۔
ہمیں بحیثیت معاشرہ اور حکومت، دونوں کو اس پر فوری طور پر سوچنے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر نئی سوسائٹی میں کھیل کے میدان اور پارکس کو لازمی قرار دیا جائے۔ اسکولوں کے لیے مخصوص رقبہ مقرر کیا جائے تاکہ تعلیم کے ساتھ کھیل بھی نصاب کا لازمی حصہ بنے۔ والدین کو بھی اپنی ترجیحات میں یہ بات شامل کرنا ہوگی کہ وہ بچوں کو کھلی فضا اور کھیل کے مواقع دیں۔
کھیل کے میدان صرف بچوں کی تفریح کے لیے نہیں، بلکہ یہ قوم کے مستقبل کی ضمانت ہیں۔ صحت مند بچہ ہی کل کا صحت مند نوجوان بنے گا، اور صحت مند نوجوان ہی ایک روشن پاکستان کی بنیاد رکھے گا۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اگر آج ہم نے کھیل کے میدانوں کو آباد نہ کیا تو کل ہمارے خواب اور ہماری قوم دونوں ویران ہو جائیں گے۔



