پی ٹی آئی احتجاج؛ راستے بند ہونے کے باعث عوام دریائے جہلم میں خطرناک سفر کرنے پر مجبور


جہلم: راستے بند ہونے کے باعث عوام دریائے جہلم میں خطرناک سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ کشتی اور بیڑے چلانے والوں کا کام چمک اٹھا، ریٹ بھی بڑھادیے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے 24 نومبر کے احتجاج کو روکنے کے لئے انتظامیہ نے جی ٹی روڈ اور موٹروے بند کر رکھی ہے جس کی وجہ سے عوام ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے کیلئے دریائے جہلم میں خطرناک سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں نے آمدورفت کے لئےبیڑے اور کشتیوں کو ذریعہ بنا لیا۔ دریائے جہلم میں ہرنپور اور پیراغیب سمیت متعدد مقامات پر کشتیاں اور بیڑے مسافروں کو منتقل کرنے لگے۔
ملکوال اور سرائے عالمگیر سے لوگ کشتیوں کے ذریعے جبکہ منگلا پل کے قریب سے پیدل دریا عبور کر کے ضلع جہلم کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ کشتی اور بیڑے چلانے والوں کا کام چمک اٹھا جس کی وجہ سے ریٹ بھی بڑھادیے گئے ہیں۔
راستے بند ہونے سے شہریوں کو آمدو رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، گزشتہ روز دریائے جہلم پل پر دو مریض بھی دم توڑ گئے تھے۔
شہری گاڑیاں، ٹریکٹر، موٹرسائیکلیں اور دیگر سازوسامان بھی کشتیوں اور بیڑوں میں رکھ کر ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں آمدورفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ دریائے جہلم کے دونوں پل کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، موٹر وے ایم 2 کو لِلہ انٹر چینج سے کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے، منگلا پل کو بھی بند کیا گیا ہے۔ پنڈدادن خان جہلم روڈ کو مصری موڑ کے مقام پر بند کیا گیا ہے۔ شاہراہیں بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں جب کہ ضلع بھر کی شاہراہوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے۔



