نئے بجٹ کے بعد پانچ مرلے کے گھر پر اب کتنی لاگت آتی ہے؟

جہلم: پاکستان میں موجودہ معاشی صورت حال کے باعث جہاں ہر چیز ہی بڑھتی مہنگائی کی زد میں آئی ہے وہیں تعمیراتی مٹیریل کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ سیمنٹ، سریہ، ریت، بجری اور اینٹیں مہنگی ہو گئیں۔ گھر بنانے والا تعمیراتی مٹیریل مہنگا ہونے سے سفید پوش طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہوگیا۔

سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں 300 سو روپے اضافہ ہوگیا، سفید پوش طبقے کے لئے گھر بنانا مزید مشکل ہو گیا۔ ریت کو 40 سے بڑھ کر 55 روپے فٹ مقرر کر دیا گیا، چیئرمین سیمنٹ ڈیلر ایسوسی ایشن کہتے ہیں کہ بجٹ کے بعد سیمنٹ میں 1 سے 2 روپے ایکسائز ڈیوٹی بڑھی جس کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

اول درجے کی 1000 اینٹ کی قیمت 15 ہزار 200 روپے ،سپیشل اینٹ کے لئے 1000 اینٹ کی قیمت 20ہزار 200 روپے اور 1ہزار ٹائل کی قیمت 16 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب سریے کی قیمت فی ٹن 2 لاکھ 45 ہزار سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے کردی گئی ہے۔

تعمیراتی شعبہ سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اشیا کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے گھر بنانے کا بجٹ بنانا بھی دشوار ہو گیا ہے اور بجری، سیمنٹ، سریا، اینٹیں مہنگی ہونے سے تعمیر کا ٹھیکہ بھی غیر معمولی بڑھتا جا رہا ہے جبکہ بڑے اور چھوٹے شہروں میں تعمیرات کا کام بھی پہلے کی طرح دکھائی نہیں دیتا۔

کہتے ہیں پہلے جو گھر 45 لاکھ میں بنتا تھا اب وہ 75 لاکھ میں بن رہا ہے۔ حالیہ بجٹ کے بعد ضلع جہلم میں سیمنٹ کی بوری 300 روپے اضافے کے ساتھ 1500 روپے کی ہو گئی۔

کاروبار سے وابستہ افراد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کنسٹرکشن مٹیریل پر ٹیکسز کم کیے جائیں تاکہ گھر بنانے والوں کے لیے آسانی پیدا ہوسکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button