جہلم: ڈیٹیکشن بل کی مد میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، سرفراز ملک کی نیپرا کو تحقیقات کی درخواست

جہلم: ڈیٹیکشن بل کی مد میں صارفین کو زائد یونٹس چارج کرنے اور مالی بے ضابطگیوں کا سنگین انکشاف ہوا ہے۔ چیئرمین انکریڈیبل جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سرفراز ملک نے آئیسکو کے خلاف باقاعدہ شکایت نیپرا کو ارسال کر دی ہے اور اس معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سرفراز ملک کا کہنا ہے کہ آئیسکو نے 2024 میں پرانے میٹر SP7884877 اور نئے میٹر 4513842 کے حوالے سے یونٹس کا غلط تخمینہ لگایا اور صارفین کو غیر ضروری اضافی بلز جاری کیے۔ ان کے مطابق اگست 2024 میں 509 یونٹس کے بل کی مکمل ادائیگی کی گئی، لیکن مئی 2025 میں انہی یونٹس کو "کٹوتی” کے طور پر دوبارہ بل میں شامل کر دیا گیا، جس سے صارفین میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔

سرفراز ملک کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر آئیسکو کے کسٹمر سروس دفاتر سے کئی بار رجوع کیا گیا، لیکن عملے کا غیر پیشہ ورانہ رویہ اور سائلین سے بدسلوکی کی متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ انہوں نے خاص طور پر کلرک شمسیر کا ذکر کیا جو، ان کے مطابق، شکایت کنندگان سے مناسب برتاؤ نہیں کرتے اور اکثر موبائل فون پر مصروف رہتے ہیں، جس سے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چیئرمین انکریڈیبل نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف ان کا نہیں بلکہ جہلم سمیت دیگر علاقوں کے صارفین بھی اسی نوعیت کی بلنگ غلطیوں کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے اور پرانے میٹروں کے حوالے سے جو کٹوتیاں کی گئیں، ان کا کوئی تحریری ثبوت یا تکنیکی جواز بھی فراہم نہیں کیا گیا۔

سرفراز ملک نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ آئیسکو کی مالی بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، غلط بلنگ کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، صارفین کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچایا جائے اور بلوں میں کی گئی غلط کٹوتیوں کا ازالہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button