جہلم میں خشک سردی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث موسمی امراض میں تشویشناک اضافہ

4
جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں خشک سردی، ماحولیاتی آلودگی اور دھند کے باعث موسمی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری اور نجی ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ نزلہ، زکام، بخار، کھانسی، اسہال، پیٹ کے امراض اور نمونیا جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جن سے کم سن بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
موسمِ سرما کی شدت اور درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی کے باعث جہلم کے مختلف علاقوں میں شہری بڑی تعداد میں بیمار ہو رہے ہیں۔ بدلتے موسم میں ٹھنڈی اشیاء، چٹخارے دار اور مصالحہ دار کھانوں کے استعمال سے شہری گلے کے انفیکشن، بخار اور معدے و آنتوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق موسم کی اس تبدیلی کے ساتھ ہی بچوں میں نمونیا اور پیٹ کے امراض کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں بھی مریضوں کا غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں مریض رجوع کر رہے ہیں۔ زیادہ تر کم عمر بچے بیماریوں کی لپیٹ میں آ رہے ہیں، جس کے باعث متعدد والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں منتقل کرانے پر مجبور ہیں، جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑ رہا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خشک سردی، فضائی آلودگی اور دھند کے باعث بخار، نزلہ، کھانسی، اسہال، گیسٹرو، ہیضہ اور دیگر موسمی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، جو بروقت احتیاط نہ کرنے کی صورت میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں نے شہریوں، بالخصوص والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسمِ سرما میں ٹھنڈی اور غیر معیاری اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں اور بچوں کو مناسب گرم ملبوسات پہنائیں۔
ڈاکٹروں کا مزید کہنا ہے کہ والدین کی لاپرواہی کے باعث بچے تیزی سے بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو گرم مشروبات، متوازن غذا اور صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جائے۔ ماہرین نے شہریوں کو تلقین کی ہے کہ معمولی علامات کی صورت میں بھی فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
عوامی حلقوں نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اضافی سہولیات اور عملہ فراہم کیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے مریضوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور شہریوں کو بروقت اور معیاری علاج میسر آ سکے۔



