عید الفطر پر کھلونا اسلحہ کی فروخت میں اضافہ، بچوں میں منفی رجحانات کے بڑھنے کا خطرہ

جہلم: عیدالفطر کے موقع پر بچوں میں کھلونا اسلحہ خصوصاً پلاسٹک کی کلاشنکوف، پستول اور دیگر جدید ہتھیاروں کی نقل پر مشتمل کھلونوں میں دلچسپی بڑھ گئی جو کہ والدین اور سماجی حلقوں کے لیے تشویشناک امر ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں عیدالفطر کے دوران نقلی اسلحہ کی فروخت عروج پر رہی۔ مارکیٹ میں جدید ہتھیاروں کے مشابہ کھلونا گنز بآسانی دستیاب تھیں، جن میں ٹی ٹی پستول، ریوالور، موذر، کلاشنکوف، ایم پی 5، ایس ایم جی، ایل ایم جی، ریپیٹر اور پمپ ایکشن گنز شامل ہیں۔ حیران کن طور پر، بعض کھلونوں میں پلاسٹک اور میٹل کی گولیاں بھی استعمال کی جا رہی ہیں، جو کہ بچوں کی جسمانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

عید کے تینوں روز بچے گلی محلوں میں ان کھلونوں سے فرضی گولیاں چلاتے اور ایک دوسرے پر نشانہ لگاتے نظر آئے۔ اس مصنوعی جنگی ماحول کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ رجحان بچوں کی ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے اور بدماش کلچر کو فروغ دے سکتا ہے۔ موبائل، کارٹون، ڈرامے اور فلمی کلچر کمسن بچوں میں منفی رجحانات کو پروان چڑھا رہے ہیں، جو مستقبل میں سماجی بگاڑ کا باعث بن سکتے ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ عیدالفطر پر کھلونا اسلحہ کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا اور والدین بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے بچوں کو یہ کھلونے خرید کر دے رہے ہیں۔ تاہم عوامی اور سماجی حلقوں نے بچوں میں کھلونا اسلحہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے کھلونوں پر فوری پابندی عائد کی جائے تاکہ سماجی بگاڑ اور قانون شکنی کے رجحان کو پنپنے سے روکا جا سکے۔

والدین پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اور ایسے کھلونوں سے دور رکھیں جو جارحیت اور تشدد کے جذبات کو ابھارنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بڑھتے ہوئے منفی رجحان کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button