برطانیہ کے سب سے بلند پہاڑ ’’بین نیوس‘‘ پر آزاد کشمیر کا جھنڈا لہرا دیا گیا

لوٹن: برطانیہ کے کشمیری اوریجن ایوارڈ یافتہ جی پی ڈاکٹر طاہر محمود کی اہلیہ شبنم محمود جو اسکول ٹیچر ہیں اور صاحبزادہ عماد محمود جو لاء گریجویٹ ہیں نے کشمیریوں کے مسئلے کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کیلئے برطانیہ کی سب سے بلند ترین پہاڑ کی چوٹی نیوس پر آزاد کشمیر کا جھنڈا لہرا دیا۔
ڈاکٹر طاہر محمود نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 24اگست کو الحمدللہ ان کی اہلیہ شبنم محمود اور ان کے بیٹے عماد محمود نے یوکے، کے سب سے بلند ترین سمٹ بین نیوس پر پہلی بار آزاد کشمیر کا پرچم لہرایا۔
اس متعلق خود شبنم محمود کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد کشمیر پر آگاہی پیدا کرنا، لوگوں میں کشمیر کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا اور یہ بتانا ہے کہ کشمیری ڈائسفرا اس کی اپنی شناخت ہے دوسرا مقصد کشمیری نژاد خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں صحت مند سرگرمیوں میں مشغول کرنے اور دل کی بیماریوں بشمول ذیابیطس اور طویل مدتی حالات کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مہیا کرنا ہے، پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھنے سے صحت مند زندگی گزارنے میں بھرپور مدد ملتی ہے، ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔
خیال رہے کہ شبنم محمود یوکے کشمیر کے کارکن مرحوم حاجی اقبال راٹھور لوٹن کی سب سے چھوٹی بہن اور حاجی محمد شریف راٹھور کی بیٹی ہیں، مسز محمود اور ان کے بیٹے پہلے بھی متعدد چوٹیوں تک پہنچ چکے ہیں، وہ سنوڈونیا پہاڑ جو سنگلاخ پہاڑی علاقے پر 8-10میل کا سفر تھا طے کر چکے ہیں، وہ قومی تین چوٹیوں کے چیلنجز کو طے کر چکے ہیں جو برطانیہ کے سب سے مشکل آؤٹ ڈور چیلنجز میں سے ایک ہے۔
ڈاکٹر طاہر محمود نے بتایا کہ بین نیوس کی مشکل ترین چوٹی پر پہنچنے کے لیے انہیں باقاعدہ گائیڈز کی سروسز لینا پڑیں اور یہ مشکل اور دشوار گزار سفر بھی تھا اور موسم بھی خراب تھا، بین نیوس کی اونچائی سطح سمندر سے 4413 فٹ ہے اور وہاں اس وقت برف پڑتی ہے ،ایک 54 سالہ خاتون کا یہ اقدام سراہنے کے قابل ہے ۔
ڈاکٹر طاہر محمود کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ پہلے بھی مسئلہ کشمیر پر بیداری پیدا کرنے کی مختلف سرگرمیوں کا حصہ رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ڈائسفرا چاہتی ہے کہ ہمارا وطن بھی آزاد اور خودمختار ہو اور ہم بھی دنیا میں ایک باوقار قوم کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔
مسز شبنم محمود کا کہنا تھا کہ کشمیری ایک دن ضرور آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوں گے وہ چاہتی ہیں کہ برطانیہ میں کشمیری کمیونٹی کی نئی نسل مسئلہ کشمیر پر متحرک کردار ادا کرے، اسی لیے انہوں نے اپنے بچوں کو بھی تحریک آزادی کشمیر کی سرگرمیوں میں شامل کیا ہے۔
یہ بھی خیال رہے کہ ڈاکٹر طاہر محمود اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے ساتھ مختلف سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور آپ اس امر کے لیے بھی سرگرم ہیں کہ برطانیہ کے کشمیری پروفیشنل ڈاکٹروں کے آپس میں رابطے بڑھیں، اس مقصد کے لیے بھی انہوں نے متعدد سرگرمیوں کو فروغ دیا تاکہ کمیونٹی کو بہتر رول ماڈل میسر ہوں اور ان کی خدمات اور تجربات سے آزاد کشمیر کے پسماندہ علاقوں کو بھی استفادہ ہو۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



