جہلم میں چائلڈ لیبر اور مزدوروں کے استحصال نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں محکمہ لیبر کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
محنت کشوں کو مقررہ کم از کم اجرت کی بجائے 20 سے 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے جبکہ چھٹی کرنے پر ان کی تنخواہوں سے کٹوتی معمول بن چکی ہے۔ دوسری جانب چائلڈ لیبر کے قوانین کی بھی کھلے عام خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں 9 سے 12 سال کے بچوں سے مشقت لی جا رہی ہے اور ان پر مبینہ تشدد کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر نوعمر بچوں سے سخت جسمانی مشقت کروائی جا رہی ہے، جن میں ہوٹل، ورکشاپس اور چھوٹی فیکٹریاں شامل ہیں۔
محنت کشوں کی نمائندہ تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ لیبر کے متعلقہ افسران صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہیں اور "سب اچھا ہے” کی رپورٹس اعلیٰ افسران کو بھجوا کر اپنی ذمہ داری پوری کر لیتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
محنت کش تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، اور صوبائی وزیر محنت سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم میں محنت کشوں کے مسائل کے حل اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ محنت کش طبقہ شدید استحصال کا شکار ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔



