قرآن فہمی، دینی شعور اور عمل صالح ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہیں، امیر عبدالقدیر اعوان

میونخ: شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان نے جرمنی کے شہر میونخ کی مسجد الامہ میں "سراجاً منیرا” کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی تلاوت جہاں برکات اور اجر عظیم کا باعث ہے، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اسے سمجھا جائے، کیونکہ اس کے احکامات پر عمل کرنا اصل مقصود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو تعلیم کی غرض سے یہاں تشریف لائے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ جہاں وہ دنیاوی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہیں دینی تعلیم بھی حاصل کریں، جس سے نورِ ایمان میں وہ پختگی آئے گی جس کے نتیجے میں عملِ صالح اختیار کریں گے، جو روزِ محشر بھی ان کے کام آئیں گے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ قرآن کریم میں آپ ﷺ کو فرمایا جا رہا ہے کہ تلاوتِ قرآن فرمائیں اور نماز کی پابندی کریں۔ تو بحیثیت امتی، جب ہم نماز کی پابندی کریں گے تو یہ ہمیں بے حیائی اور برائی سے روک دے گی۔ اس کی باقاعدگی ہمیں معیتِ محمد الرسول اللہ ﷺ کی صف میں لے جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہر مرنے والے کے ساتھ صرف اس کے اعمال ہی جائیں گے۔ بندۂ مؤمن کو یہ عظمت عطا فرمائی گئی ہے کہ جب نورِ ایمان نصیب ہوتا ہے، تب دنیا کے کام بھی آخرت کی تعمیر کا سبب بنتے چلے جاتے ہیں۔ اور اس سب کے لیے جاننا بہت ضروری ہے، کیونکہ جب جانیں گے تو عمل کر پائیں گے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ دینِ اسلام ہر ایک کو دعوتِ حق دیتا ہے۔ جب قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھا جائے گا تو محسوس ہوگا کہ اس کا ایک ایک لفظ، ایک ایک حکم میرے لیے ہے۔ میرے اللہ کریم مجھ سے مخاطب ہیں۔ انسان کی تخلیق کے مقصد کو پانے کا یہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ میں ہمارے لیے مکمل راہنمائی موجود ہے، ہمیں صرف اختیار کرنے کی ضرورت ہے، تب کہیں کوئی تشنگی باقی نہ رہے گی۔ دنیا کے کاموں کو اللہ کے حکم کے مطابق کرنے کا نام اسلام ہے، یہی دین ہے اور اسی دنیاوی زندگی سے آخرت کی تعمیر ہونی ہے۔
آخر میں انہوں نے ذکر اللہ کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ذکر کی مختلف اقسام ہیں، جن میں لسانی ذکر، عملی ذکر اور قلبی ذکر شامل ہیں۔ محفل میں آنے والوں کو ذکرِ قلبی سکھایا گیا، اور امتِ مسلمہ کے اتحاد اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔



