رمضان المبارک میں گراں فروشی کا بڑھ جانا غریب اور سفید پوش طبقے کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے، سید خلیل حسین کاظمی

جہلم: سید خلیل حسین کاظمی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی گراں فروشی کا بڑھ جانا غریب اور سفید پوش طبقے کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ مقدس مہینے میں پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں، جس کے باعث روزہ داروں کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔
جہلم کی معروف سیاسی و مذہبی شخصیت سید خلیل حسین کاظمی کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں پھل فروش گاہکوں سے من مانگے دام وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔
انہوں نے زور دیا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو صرف اندرونِ شہر ہی نہیں بلکہ گلی محلوں اور رہائشی علاقوں میں قائم دکانوں کی بھی باقاعدہ چیکنگ کرنی چاہیے، جہاں مصنوعی گراں فروشی کے ذریعے روزہ داروں کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت اور عملی کارروائیاں نہیں کی جائیں گی، اس وقت تک گراں فروشی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ سید خلیل حسین کاظمی نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میر رضا اوزگن سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوٹس لیں اور عوام کو رمضان المبارک میں حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ مقدس مہینے کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے عام آدمی کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلائے اور سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔



