ٹی ایچ کیو ہسپتال سوہاوہ کی مسیحا

اکثرو بیشتر ہم عوام بڑی انوکھی اور عجیب و غریب مخلوق بن جاتیں ہیں ۔آپ اکثر معاشرے کے اردگرد نظر ڈالیں تو کوئی دن ایسا نہیں جس دن انہونی یا کچھ منفرد طرز عمل دیکھنے کو نہ ملیں۔ موجودہ نظام زندگی کے بے ہنگم طرز عمل کی طرح یہ تحریر بھی کچھ الگ ہی منطق رکھتا ہے۔
گزشتہ دنوں ایک ادھوری تحریر جو غلطی سے ایک عوامی فورم پر محض ایک منٹ سے بھی کم وقت کے لیے شئیر ہوئی ۔لیکن کچھ شکاری جو ہر وقت شکار کی تاک میں رہتے ہیں نے فوری طور پر نامکمل تحریر کو ہتھیار کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی۔بہرحال لوٹ مار کی طرف آتے ہیں کہ یہی ڈیپارٹمنٹ آخر کیوں لوٹ مار میں پہلے نمبر پر ہے؟۔
ڈاکٹر جنہیں دوسرے لفظوں میں مسیحا بھی کہا جاتا ہے ۔وہ مسیحاجو انسانیت کی قدر کرے جو مخلوق خدا کا درد رکھے۔جو اپنے ذمے لگے فرائض کو پوری دل جمعی اور فرض شناسی سے نبھائیں۔ مسیحا جو انسانی جان کو بچانے کے لیے نہ دن دیکھے نہ رات جو طوفان کی پروانہ نہ کریں۔ جس کو فرض کی ادائیگی کے لیے دھوپ اور بارش کی پرواہ نہ ہو۔ لیکن آپ کو معاشرے میں ڈاکٹرز کے روپ میں مسیحا کم ہی دیکھنے اور سننے کو ملے گئے ۔کیونکہ مسیحا بننے کے بعد آپ کو بدلے میں کیا ملتا ہے؟۔
ایک طرف تو پیسوں کی لوٹ مار ہے ، ادویات کے کمیشن کے بدلے گاڑیاں ،بینک بیلنس ،کوٹھی ،کاریں اور یہاں تک کہ آپ انہی پیسوں سے عمرہ تک کر لیتے ہیں ۔لیکن اگر کسی ڈاکٹر کی اصل لوٹ مار دیکھنی ہو تو ٹی ایچ کیو ہسپتال کی گائنی وارڈ کا مشاہدہ کریں ۔آپ کو وہاں کے آپریشن تھیٹر اور گائنی وارڈ میں ملے گی۔
ڈاکٹر عنبرین، ڈاکٹر مریم، ڈاکٹر شازین، ڈاکٹر طلیہ اور ڈاکٹر سدرہ جو وہاں لوٹ رہی ہیں عوام کی دعائیں۔ سمیٹ رہی ہیں مخلوق خدا کی محبتیں۔ جمع کر رہی ہیں آنسووں سے نکلی حقیقی دعاوں کو۔ آخر ایسا کیا ہے کہ یہ سب لوٹ مار میں پنجاب بھرمیں پہلے نمبر پر ہیں ؟
کیونکہ یہ کر رہی ہیں دل سے خدمت یہ دے رہی ہیں اپنی خدمات انتہائی کم وسائل ہے باوجود وہ کر رہی ہیں جو بہترین وسائل کی دستیابی میں بھی ممکن نہیں ہوتا ۔ یہ اپنے مریض کے لیے مسیحا بنتی ہیں بغیر کسی لالچ بغیر کسی مفاد بغیر کسی غرض سے اپنے فرائض کو نبھا رہیں ہیں پوری ایمانداری سے ۔
ماضی قریب اور پھر اس سے تھوڑا پیچھے جائیں اور اپنی یاداشت پر جمی گرد کو ہٹائیں تو آپ کو یاد آئے گا کہ ایک وقت تھا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ایک سرنج تک باہر سے لانی پڑتی تھی لیکن پھر بھی گائنی اور اوٹی میں روزانہ زچہ و بچہ کے درجنوں کیسیز ہوتے تھے ایک وقت تھا کہ غریب مریضوں کا علاج معالجہ ڈلیوری تو ہو جاتی تھی لیکن اخراجات برداشت کرنے کے باوجود ادویات کے حوالے سے مریضوں کو شکایات رہتی تھیں مہنگی ادویات کی بھی شکایات ملتی تھیں لیکن ان سب کے باوجود اس ہسپتال کے ان شعبوں کے لئے لوگوں کو دعائیں دیتے دیکھا ۔
ماضی سے نکل کر ماضی قریب میں آئیں تو ہسپتال میں گائنی وارڈ میں ڈلیوری فری ہونے کے بعد سی سیکشن بھی فری ہو گیا لیکن مریضوں کو اس کے باوجود شکایات کرتے دیکھا کہ جو ادویات ہسپتال سے ملتی ہیں ان سے مریض کو ٹھیک ہونے کے لیے ہفتوں۔مہینوں لگتے ہیں۔ لیکن اب ایسا کیا جادو ہو گیا کہ ادویات بھی ہسپتال سے ملتی ہیں ، علاج بھی وہی ہے ڈاکٹرز بھی وہی ہیں لیکن مریض آپریشن کے بعد بھی دنوں میں ٹھیک ہو رہے ہیں ۔تو اس کے پیچھے ہے وہ ادھوری تحریر جس کا پہلا حصہ غلطی سے شیئر ہوا ۔
ہیلتھ کارڈ ایک ایسی سہولت ہے جس سے مریض کو ہسپتال میں مفت وہ سہولیات ملتی ہیں وہ علاج ملتاہے جس سے وہ دنوں میں ٹھیک ہوتا ہے ۔ مہنگی اور بہترین ادویات کے ذریعے مریض کو علاج ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ممکن ہوتا ہے اور مریض کو ہسپتال میں داخلے کے دوران لگنے والی ادویات کے بل کی کٹوتی ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ممکن ہوتی ہے ۔ یہی وہ سبب ہے جس سے ٹی ایچ کیو ہسپتال سوہاوہ کی یہ ڈاکٹر (مسیحا) عوام کا بہترین علاج کر کے دعائیں ،محبتیں لوٹ کر انسانیت کی خدمت کررہی ہیں ۔ انہیں کسی بات کا لالچ نہیں ہوتا یہ وہ ڈاکٹرز ہیں جو حقیقت میں انسانیت کی خدمت کررہی ہیں ۔
اس تحریر کے بعد آپ دیگر ہسپتالوں کی گائنی وارڈ ز اور او ٹی میں جانے والوں سے ملاقات کریں تو آپ کو اس تحریر میں لکھے گئے الفاظ کی سمجھ آئے گی ۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہرہسپتال کے گائنی وارڈز اور او ٹی میں موجود ڈاکٹرز کو لوٹنے والا بنائے کیونکہ جو کوئی بھی دور حاضر کی افرا تفری ،بے حسی ،خود غرضی میں ایسی لوٹ مار کرنے میں کامیاب ہوا وہ در حقیقت حقیقی مسیحا کہلانے کے قابل ہے ۔
اللہ پاک ہم سب کو اسی طرح اپنے اپنے معاملات میں عوام سے ایسی لوٹ مار کرنے والا بنائے جس میں دنیا کی بھی کامیابی ہے اور آخرت کی بھی ۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



