جہلم: رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کے ہوش اڑا دیے

جہلم: ماہ رمضان کے بابرکت مہینے میں بجلی گیس کے بلوں نے عوام کے ہوش اڑا دیئے، حکومت نے شہریوں کو کنگلا کرنے کی ٹھان لی۔ بجلی کی غیر اعلانیہ طویل بندش اور گیس کا پریشر غائب ہونے کے باوجود بھاری بلوں نے مہنگائی سے تنگ عوام کومزید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
شہریوں کے مطابق ہفتے میں دو یا تین دن صبح 7 بجے سے دوپہر 2بجے تک بجلی غائب رہتی ہے ابھی تو پنکھے بھی نہیں چلے اور نہ ہی متوسط طبقہ مہنگائی کے دور میں سولر سسٹم لگانے کی سوچ سکتا ہے ، ہزاروں روپے کے بلوںنے تو صارفین کی راتوں کی نیند تک چھین لی ہے۔ گھر کے دیگر اخراجات پورے کریں یا گیس بجلی کے بل ادا کریں۔
حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے دن بدن عوام پر بوجھ بڑھاتی جا رہی ہے، امیر آدمی کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا غریب اور متوسط طبقے کے لوگ خو د کشیاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کے دوران جو مفت بجلی اور گیس کے وعدے اور عوام کو ریلیف دینے کے نعرے لگائے گئے تھے اس پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ، حکمرانوں نے تو اقتدار حاصل کر کے اپنی عیاشیاں شروع کر دی ہیں کسی کو بھی غریب آدمی کا خیال نہیں کہ وہ بچوں کی پڑھائی کے اخراجات کہاں سے پورے کرے گا۔ گھر کا راشن ، مکان کا کرایہ ، یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی ایک دیہاڑی دار مزدور کس طرح کرے گا۔
شہریوں نے وزیراعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف سے نوٹس لینے اور مہنگائی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔



