درخت لگانا نہ صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ ہمارا قومی فریضہ بھی ہے، ڈاکٹر واجد پیرزادہ


خوشاب: درخت لگانا نہ صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ ہمارا قومی فریضہ بھی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہو اور زمین سرسبز و شاداب بنے۔
ان خیالات کا اظہار تنظیم سادات بنی ہاشم پاکستان کے امیر ڈاکٹر واجد پیر زادہ نے اپنے آبائی قبرستان پیل پیراں خوشاب میں بریگیڈیئر (ر) شہزادہ شاہ کے ہمراہ انجیر کا پودا لگا کر شاداب پاکستان مہم کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں عام آدمی کو مہنگائی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے، وہیں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں بھی شدید اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ شجر کاری کو فروغ دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔
ڈاکٹر واجد پیرزادہ نے کہا کہ چنانچہ اب یہ اہم ضرورت ہے کہ جہاں تک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ کوشش ہونی چاہیے کہ مقامی درخت لگانے کو ترجیح دی جائے۔ مقامی درخت سے مراد کیکر، شیشم، سُمبلو، پاپولر، نیم، دھریک، بکائن، فالسہ، بیری، جامن، آم، توت، شہتوت، آمرود، انار، مالٹا، کینو، خوبانی وغیرہ ہیں۔ اپنی زمینوں کے کناروں اور فالتو جگہوں پر ایسے پودے لگانے سے نہ صرف ماحول سرسبز و شاداب رہے گا بلکہ زمینداروں کو خاطر خواہ مالی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم سادات بنی ہاشم پاکستان کی ذیلی شاخیں اور بالخصوص تنظیم کے تمام اراکین اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے اور اسے ملکی سطح پر پھیلائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے گھروں، کھیتوں اور کھلی جگہوں پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ ملک کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کیا جا سکے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔



