جہلم میں مصنوعی مہنگائی عروج پر، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس خاموش تماشائی، شہریوں کا شدید احتجاج

جہلم شہر میں مصنوعی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی خاموشی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، لیکن ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
شہر میں بکرے کے گوشت کی سرکاری قیمت 1600 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر قصاب کھلے عام 2400 سے 2600 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح گائے کے گوشت کا سرکاری نرخ 800 روپے فی کلو ہے لیکن یہ 1200 سے 1400 روپے میں دستیاب ہے۔
سبزیوں کے نرخ بھی قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ ادرک 600، لیموں 400، لہسن 350، سبز مرچ 160 اور ٹماٹر 120 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہے ہیں۔ گھیا کدو 200، بھنڈی اور اروی 180، جبکہ آلو 110 روپے فی کلو دستیاب ہیں۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ جامن 800، خوبانی اور آڑو 280، آم سندھڑی 300، کیلا 200 اور آلو بخارا 300 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں منیب حسین، عبدالصمد، فلک شیر، فرحان علی، وقار علی، عبد الجبار، زاہد بھٹی، محمد حمزہ، ارسلان نواز، محمد ندیم اقبال، نادر اقبال، محمد سرور، شاہد اقبال، زاہد حسین، مہر حسن قیوم، ملک نواز علی، محمد وحید، برہان علی، عمران و دیگر نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پرائس کنٹرول کے لیے تعینات تین درجن کے قریب مجسٹریٹس کی موجودگی کے باوجود مہنگائی کا طوفان بے قابو ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔



